ایک بار پھر وہی منظر۔ ورلڈ کپ کا میدان، گرین شرٹس کی امیدیں، کروڑوں دلوں کی دھڑکنیں اور پھر اگر وہ کیچ نہ چھوٹتا، اگر بارش نہ ہوتی، اگر نیٹ رن ریٹ بہتر ہوتا، اگر فلاں ٹیم جیت جاتی تو ہم کوالیفائی کر جاتے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟
حالیہ آئی سی سی ایونٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی نے ایک بار پھر شائقین کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ سپر ایٹ مرحلے میں اہم میچ ہار جانا، روایتی حریف بھارت کے خلاف مسلسل شکستوں کا سلسلہ برقرار رہنا، اور ٹورنامنٹ کے آخری لمحات میں دعاؤں اور دوسری ٹیموں کے نتائج پر نظریں جمائے بیٹھنا، یہ سب اب ایک تکلیف دہ روایت بن چکا ہے۔
پاکستان کرکٹ کی تاریخ شاندار لمحات سے بھری پڑی ہے۔ 1992 کرکٹ ورلڈ کپ کی جیت آج بھی قوم کو متحد کر دیتی ہے۔ 2009 آئی سی سی ورلڈ ٹی20 کی ٹرافی اور 2017 کی چیمپیئنز ٹرافی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ ٹیم سب پر بھاری بھی رہ سکتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم دوبارہ کبھی کوئی آئی سی سی ایونٹ جیت سکتے ہیں؟
گزشتہ ایک دہائی میں کپتان بدلے، کوچز بدلے، چیف سلیکٹرز بدلے، حتیٰ کہ پورا اسکواڈ تبدیل ہوگیا۔ نوجوان آئے، سینئرز گئے، نئے چہرے آزمائے گئے۔ مگر ٹیم کی عالمی رینکنگ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مجموعی کارکردگی کا گراف وہیں کا وہیں کیوں ہے؟ بڑے ایونٹس میں غیر یقینی، دباؤ میں بکھر جانا، اور مستقل مزاجی کا فقدان یہ مسئلہ کھلاڑیوں کا ہے یا نظام کا؟
تنقید کھلاڑیوں پر بھی بنتی ہے۔ کیچ چھوڑنا، غیر ذمہ دارانہ شاٹس کھیلنا، میچ فنش نہ کر پانا، یہ سب پیشہ ورانہ سطح پر ناقابلِ قبول ہے۔ مگر کیا ہر ناکامی کا بوجھ صرف 11 کھلاڑیوں پر ڈال دینا کافی ہے؟
اصل سوال پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر اٹھتا ہے۔ ہر چند ماہ بعد چیئرمین کی تبدیلی، سلیکشن میں عدم تسلسل، ڈومیسٹک اسٹرکچر میں بار بار تجربات، اور طویل المدتی منصوبہ بندی کا فقدان کیا یہی استحکام ہے جس پر عالمی معیار کی ٹیم کھڑی کی جاتی ہے؟
جب ادارہ خود غیر یقینی کا شکار ہو تو ٹیم میں اعتماد کیسے آئے گا؟ جب کوچ کو معلوم نہ ہو کہ وہ ایک سال بعد بھی ہوگا یا نہیں، جب کپتان کو یقین نہ ہو کہ اسے مکمل اختیار حاصل ہے یا نہیں، تو میدان میں یکسوئی کہاں سے آئے گی؟
ہر ٹورنامنٹ کے بعد ہم کیلکولیٹر لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ’اگر بنگلا دیش جیت جائے‘، ’اگر رن ریٹ بہتر ہو جائے‘، ’اگر فلاں کھلاڑی فارم میں آجائے‘۔ یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم جیت کو اپنی کارکردگی کے بجائے اتفاقیہ ہی سمجھنے لگ گئے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں کئی نوجوان ستارے ابھرے اور کئی بڑے نام رخصت ہوئے، مگر ٹیم کی بنیادی کمزوریاں وہی رہیں۔ پاور پلے میں دباؤ، مڈل آرڈر کی غیر یقینی صورتحال، اسپن کے خلاف مشکلات، اور فیلڈنگ میں سستی، یہ مسائل انفرادی نہیں، کھلاڑیوں کے نہیں، یہ سسٹم کے مسائل ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات سے ہٹ کر حقیقت کا سامنا کریں۔ محض کپتان بدلنے یا کوچ ہٹانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ طویل مدتی پالیسی دے، ڈومیسٹک ڈھانچے کو مستقل بنیادوں پر مستحکم کرے، اور پیشہ ورانہ انتظامی ماڈل اپنائے۔
کھلاڑیوں کو بھی خود احتسابی کی ضرورت ہے، مگر اصل احتساب ادارے کا ہونا چاہیے۔ کیونکہ ٹیم میدان میں وہی عکس پیش کرتی ہے جو بند کمروں میں طے ہوتا ہے۔ چیئرمین محسن نقوی صاحب کو اپنی عزت بچانی ہے تو اس بار کھلاڑیوں کی نہیں پورے کرکٹ بورڈ کی سرجری کرڈالیں۔
کیونکہ جب تک نظام نہیں بدلے گا، چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اور جب تک منصوبہ بندی نہیں ہوگی، تب تک ’اگر مگر‘ کا یہ سلسلہ بھی ختم نہیں ہوگا۔ سوال اب بھی وہی ہے، کیا ہم اگلے ورلڈ کپ میں بھی کیلکولیٹر لے کر بیٹھے ہوں گے؟ یا اس بار واقعی کوئی تبدیلی آئے گی؟













