پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز بابر اعظم ایک بار پھر ٹی 20 فارمیٹ میں اپنی کارکردگی کے باعث تنقید کی زد میں آگئے ہیں جہاں ان کے اسٹرائیک ریٹ اور میچ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 پلیئرز کی نئی رینکنگ جاری، صاحبزادہ فرحان کی 2 درجے ترقی، صائم ایوب کی تنزلی
پاکستان کو سپر 8 مرحلے کے اہم میچ میں 2 مرتبہ کی عالمی چیمپیئن ٹیم انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مقابلہ پالی کیلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔
بابر اعظم نے 24 گیندوں پر 25 رنز بنائے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 104 رہا، قبل ازیں وہ جیمی اوورٹن کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
راشد لطیف کی تنقید
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا کہ بابر اعظم اب اس فارمیٹ کے کھلاڑی نہیں رہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ 6 ماہ قبل اسٹرائیک ریٹ کے باعث ڈراپ کیے جانے کے بعد انہیں دوبارہ کیوں شامل کیا گیا؟
راشد لطیف کے مطابق ٹیم مینجمنٹ نے کہا تھا کہ اسٹرائیک ریٹ بہتر ہونے پر واپسی ہوگی لیکن بہتری کہاں آئی؟ انہوں نے اس فیصلے کو بورڈ اور کوچنگ اسٹاف کی جانب سے ناانصافی قرار دیا۔
مزید پڑھیے: بابر اعظم کو ٹیم سے کیسے نکالا جائے؟ ٹی وی شو میں کالر کا عالم سے انوکھے وظیفے کا مطالبہ
ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹی 20 کرکٹ میں بیٹر کو رفتار تبدیل کرنے اور ہدف کے تعاقب پر کنٹرول رکھنا آنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی بلے باز 20 سے 25 گیندیں کھیل کر بھی رفتار نہ بڑھائے تو دوسرے اینڈ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جس سے نئے آنے والے کھلاڑی جلد بازی میں شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوجاتے ہیں۔
پروگرام کے میزبان نے کہا کہ 3 سال قبل بھی ٹیموں نے بابر کو آؤٹ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا مگر وہ آج بھی اسی انداز میں آؤٹ ہو رہے ہیں جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ کھلاڑی میں ہے، کوچنگ میں یا سسٹم میں؟
سابق اوپنر احمد شہزاد نے کہا کہ اننگز کے دوران ایسے مواقع آئے جب سنگلز اور ڈبلز لے کر دباؤ کم کیا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک دہائی سے زائد تجربہ رکھنے والا بیٹر معیاری لیگ اسپن کو پڑھنے میں کیوں مشکلات کا شکار ہے؟
انگلینڈ کے لیگ اسپنر عادل رشید کے خلاف میچ کے ایک موقعے کا حوالہ دیتے ہوئے احمد شہزاد نے کہا کہ بابر اعظم گوگلی پر تقریباً آؤٹ ہوگئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک کھلاڑی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے جدید ٹی 20 کے تقاضوں، خصوصاً پاور ہٹنگ اور رسک لینے کے رجحان کے مطابق خود کو نہیں ڈھالیں گے بہتری ممکن نہیں۔
محمد عامر کی رائے
فاسٹ بولر محمد عامر نے بھی اس تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم متعلقہ گیند کو درست انداز میں نہیں پڑھ سکے۔
پینل میں اس بات پر بھی بحث ہوئی کہ جب ایک بیٹر اسکورنگ ریٹ سست رکھتا ہے تو دوسرے اینڈ پر موجود یا نئے آنے والے کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور وہ فوری بڑے شاٹس کھیلنے کی کوشش میں وکٹ گنوا بیٹھتے ہیں۔
مباحثے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے ٹی 20 سیٹ اپ میں بابر اعظم کے کردار پر سوالات شدت اختیار کر چکے ہیں جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ جدید ٹی 20 کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے زیادہ جارحانہ حکمت عملی، بہتر اسٹرائیک روٹیشن اور واضح نیت ناگزیر ہے۔














