اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو نئی جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں کے مطابق ڈھال چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی اولین ترجیح قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام ہے، جبکہ اقتصادی سفارت کاری اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
وزیراعظم کی قیادت میں سفارتی کامیابیاں
وزیر خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی میں پاکستان نے اسٹریٹجک شراکت داریوں کو مضبوط بنایا، اقتصادی سفارت کاری کو فروغ دیا اور عالمی سطح پر اپنا مؤثر کردار بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے پاکستان کے مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔
خطے کی صورتحال اور مسئلہ کشمیر
اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی نظام میں کثیر القطبی رجحانات، منی لیٹرل تعاون اور جغرافیائی سیاسی مسابقت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مشرقی اور مغربی سرحدوں سے درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن، مکالمے اور سفارت کاری کے لیے پُرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کی بنگلہ دیشی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطابق منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کی واپسی پر بھی زور دیا اور کہا کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
دفاعی صلاحیت اور عالمی اعتماد
وزیر خارجہ نے مئی 2025 میں بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کے ردعمل کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے متوازن عسکری اور سفارتی حکمت عملی سے عالمی سطح پر ذمہ دار ریاست کا تاثر مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
بڑی طاقتوں سے متوازن تعلقات
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے چین کے ساتھ سی پیک 2.0، اسٹریٹجک ڈائیلاگ اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دی ہے۔ جنوری 2026 میں بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات میں افغانستان، جموں و کشمیر اور آبی سلامتی سمیت اہم امور پر ہم آہنگی کا اعادہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی برطانوی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو بھی نئی جہت دی گئی ہے اور تجارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جا رہا ہے۔ واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے اس عمل کو تقویت دی۔
مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں سرگرم سفارت کاری
وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، عمان، مصر اور بحرین کے ساتھ سرمایہ کاری و توانائی کے شعبوں میں تعاون کا ذکر کیا۔ انہوں نے ترکیہ، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ قیادت کی سطح پر تعاون کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا 2025-26 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونا عالمی برادری کے اعتماد کا مظہر ہے۔ پاکستان نے کونسل میں تنازعات کے پُرامن حل، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا ہے۔
غزہ اور ایران سے متعلق مؤقف
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے غزہ کی صورتحال پر فوری جنگ بندی، انسانی امداد اور دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھی ہے۔ ایران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
اقتصادی سفارت کاری اور موسمیاتی چیلنج
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی میں اقتصادی سفارت کاری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس میں آئی ٹی، معدنیات، زرعی پراسیسنگ اور حلال فوڈ کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے وجودی خطرہ ہے اور پاکستان عالمی فورمز پر موسمیاتی انصاف، فنڈنگ اور موافقت کے اقدامات کی وکالت جاری رکھے گا۔
مستقبل کی سمت
خطاب کے اختتام پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پرامن ذرائع سے قومی مفادات کے تحفظ، اقتصادی و اسٹریٹجک شراکت داریوں کے فروغ اور قیادت کی سطح پر فعال سفارت کاری پر مبنی رہے گی۔
انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام “پاکستان زندہ باد” کے نعرے اور شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا۔














