سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 34 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے دونوں صوبوں کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: سرحد پار دہشتگردی ناقابل برداشت، پاکستانیوں کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا، صدر زرداری
بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 4 الگ الگ کارروائیوں کے دوران 26 دہشگردوں کو ہلاک کیا گیا، جو بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ بلوچستان کے ضلع ژوب میں ایک کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 8 دہشتگرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں خوارج کے ایک گروپ کی افغانستان سے پاکستان میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی، اس دوران ایک دہشتگرد ہلاک ہوا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایک اور آپریشن ضلع لکی مروت میں کیا گیا، جس میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اسی دوران ضلع بنوں کے ایک علاقے میں کارروائی کے دوران 10 خوارج ہلاک ہوئے، جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں کارروائی کے دوران 12 خوارج مارے گئے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پانچویں کارروائی بلوچستان کے ضلع ژوب کے عمومی علاقے سمبازہ میں کی گئی، جس میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے 8 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے افغانستان، بنوں حملے کے تانے بانے بھی کابل سے جا ملے
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ وہ ملک کی سرحدوں کے دفاع میں پُرعزم اور ثابت قدم ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز ویژن عزم استحکام کے تحت ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔














