مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

جمعرات 26 فروری 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمگیر شہرت رکھنے والے امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے حال ہی میں مائیک ہکابی کا انٹرویو کیا ہے، مائیک ہکابی ان دنوں اسرائیل میں امریکا کے سفیر ہیں، لیکن ان کا تعارف اتنا سادہ نہیں۔ ان کا پہلا پیشہ ایونجلیکل عیسائی پادری کا رہا ہے، یہ عیسائیوں کا وہی فرقہ ہے جو عیسائی صہیونی کہلاتے ہیں، اور اس حیثیت میں اسرائیل کے لیے خدمات انجام دینا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں، کئی سال پادری رہنے کے بعد ہکابی سیاست میں آئے اور 1996 سے 2007 تک امریکی ریاست آرکنساس کے گورنر رہے۔ وہ 2008 اور 2016 میں پرائمری سطح پر صدارتی امیدوار بھی بنے مگر اس عرصے میں وہ زیادہ تر فاکس نیوز سے وابستہ رہے۔ یاد رکھنے کا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہکابی اپنی مذہبی شناخت سے کبھی بھی دستبردار یا لاتعلق نہیں ہوئے۔ وہ اب بھی خود کو مذہبی رہنما کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔

ٹکر کارلسن چونکہ اب پوڈ کاسٹ ہی کرتے ہیں سو وہ اپنی صحافت کو اب روایتی بندشوں میں نہیں رکھتے، بلکہ مہمان سے فکری اختلاف کی صورت بہت خوبصورتی سے انٹرویو کو ڈیبیٹ میں بدل ڈالتے ہیں۔ مائیک ہکابی کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا، 2 گھنٹے سے زیادہ کا وہ انٹرویو دیکھنے اور سننے والا کوئی بھی شخص اس نتیجے تک بہ آسانی پہنچ سکتا ہے کہ ٹکر نے مائیک ہکابی کے پلے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ ٹکر کارلسن چونکہ خود بھی مذہبی شخص ہیں سو ہکابی پر وہ اس اینگل سے بھی بھاری پڑے۔ پیش رکھنے والا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ٹکر کارلسن اور مائیک ہکابی دونوں ریپبلکن ہی نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی بھی ہیں۔ اختلاف ان دونوں میں صہیونیت کا ہے۔ ہکابی صہیونی ہیں جبکہ ٹکر کارلسن صہیونیت کے شدید مخالف، اور فلسطین کے حامی۔

عالمی سیاست سے لاتعلقی رکھنے والے قاری کو شاید حیرت ہو کہ ہم ایک سیکولر ملک کے سفیر، صحافی اور انٹرویو کے معاملے میں مذہب کو کیوں ہائی لائٹ کر رہے ہیں؟ قسم لے لیجیے صاحب! ہم ہائی لائٹ نہیں کررہے، ہم تو بس تجزیہ کرنے بیٹھے ہیں، ہائی لائٹ مائیک ہکابی اور ریپبلکن پارٹی کررہی ہے۔ یقین نہ آئے تو ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران بائبل کے نسخوں کی مفت تقسیم کے مناظر دیکھ لیجیے۔ وہ بھی چھوڑیے ابھی ڈیڑھ ہفتہ قبل منعقد ہونے والی میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کا کلیدی خطاب سن لیجیے۔ وہ خطاب جس میں روبیو کے کلیدی پوائنٹ ہی دو تھے۔ پہلا یہ کہ سلطنتوں والا دور مغرب کا سب سے سنہرا دور تھا، ہمیں اسی کی جانب لوٹ جانا چاہیے، اور آزاد ممالک پر باقاعدہ قبضے والی اسکیم پھر سے متعارف کرانی چاہیے۔

روبیو کا دوسرا پوائنٹ وہ ٹھنڈی آہیں تھیں جو انہوں نے عیسائیت کے سنہرے دور کی یاد بھریں۔ جو نہیں جانتے انہیں بتاتے چلیں کہ مغرب کی استعماری طاقتیں جہاں بھی قبضے کے لیے جاتیں، فوجی دستوں کے ساتھ پادریوں کے دستے بھی ان کی چڑھائی کا لازمی حصہ ہوتے۔ حتیٰ کہ کلونیل دور کے خاتمے پر بھی 70 اور 80 کی دہائی کے آس پاس تک ان کے عیسائی مشنری افریقہ اور ایشیا میں سرگرم رہے۔ مکمل طور پر یہ باب تب بند ہوا جب سوویت یونین تحلیل ہوگیا۔ سوویت دور میں مغرب کا سب سے بڑا جیو پولیٹکل حوالہ ہی یہ تھا کہ ہم خدا پر ایمان رکھنے والے ہیں جبکہ سوویت یونین ملحد ریاست ہے۔ یعنی مذہبی کارڈ کا بھرپور استعمال، اور جب سوویت یونین ختم ہوگیا تو مغرب نے ہی الحاد کا علم بلند کرکے پوچھا۔

کونسا خدا، کہاں کا خدا؟

یوں جلد ہی دنیا بھر میں الحاد کے فروغ کی ایک باقاعدہ پیڈ مہم شروع ہوگئی۔ بالخصوص سوشل میڈیا دور میں یہ تصور کھڑا کرنے کی منظم مہم لانچ کی گئی کہ بھئی الحاد ہمارے تصور سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یعنی ماحول ہی یہ بنا دو کہ گویا پوری دنیا ہی نہیں بلکہ آدھا پاکستان بھی ملحد ہوچکا۔ ماحول بنانے والے اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ جین زی کا دور ہے اور جین زی ٹرینڈ کو فالو کرتی ہے۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ ہمارے جین زی کو عمران خان نے اپنے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا لیا، ورنہ انہوں نے ملحد ہونے میں منٹ بھی نہ لگانا تھا، کیونکہ آپ جین زی سے ناممکن کی حد تک پہنچی ہوئی حماقت کی بھی آسانی سے توقع کرسکتے ہیں۔

ہر عمل کا ردعمل بھی تو ہوتا ہے، سو ہوگیا امریکا میں ردعمل۔ اور یہ ردعمل آیا ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی بغل میں دبی بائبل کی صورت۔ آپ ماگا کے ٹاپ پوڈ کاسٹرز بشمول ٹکر کارلسن کے پوڈ کاسٹ سن لیجیے۔ ان کا ایک بھی پوڈ کاسٹ بائبل کے حوالوں کے بغیر نہیں ملے گا، حتیٰ کہ قتل ہونے والے مشہور زمانہ چارلی کرک کو ہی دیکھ لیجیے، ان کا سب سے بڑا حوالہ مذہبی سیاست کی دعوت و تبلیغ ہی تھا۔

اب ہمارے بہت ہی قابل احترام وجاہت مسعود نے سر پیٹ لینا ہے کہ یہ آدمی ڈونلڈ ٹرمپ جیسے احمق سے مذہبی سیاست کے احیا جدید کی توقع رکھ بیٹھا ہے۔ تو بھائی وجاہت! آپ کیا جانو کہ مذہبی آدمی کا احمق ہونا یا دکھنا کتنا مفید ہوتا ہے؟۔ مثلاً آپ یہ دیکھیے کہ جب سامعین کو دوران وعظ بتایا جاتا ہے کہ ہمارے حضرت اتنے سادہ تھے کہ ان کا بیٹا ان سے روز سائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے پیسے وصول کرتا رہا تو سامعین اللہ اکبر دل کی پوری گہرائی سے پکار اٹھتے ہیں۔ اور سب جیبیں خالی کرنے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ وجاہت مسعود یا رعایت اللہ فاروقی کو یقیناً احمق نظر آرہا ہوگا مگر امریکا کے مذہبی ووٹر نے انہیں ایک ایسی سادہ شخصیت کے طور پر دیکھا جو تکلفات سے بالکل آزاد ہے، جو منہ میں آئے کہہ دیتا ہے، بیشک سفید جھوٹ ہی کیوں نہ ہو۔ اب یہ تو میشل فوکو پہلے ہی طے کرگئے کہ سچ وہی ہے جو طاقتور کا ہو۔ سو ٹرمپ کا جھوٹ بھی تب تک تو سچ مانا جائے گا جب تک طاقت ان کے پاس ہے۔

قسم لے لیجیے جو ہم کوئی مبالغہ کررہے ہوں، جب بھی ٹرمپ، ٹکر کارلسن یا مائیک ہکابی پر نظر پڑتی ہے یا ان کی آواز کان سے ٹکراتی ہے، ہمیں فوراً وجاہت مسعود یاد آجاتے ہیں، کیونکہ وجاہت بھائی نے عمر اس تلقین میں بتا دی کہ سیاست میں مذہب کا عمل دخل حرام ہے۔ اور یہ چیز ہم سب کو امریکا سے سیکھ لینی چاہیے کہ سیاست کس طرح کی جاتی ہے۔ ہم نے سالہا سال ٹھانے رکھی کہ کچھ بھی ہوجائے، امریکہ طرف نہیں دیکھنا۔ اب خدا جانے ہماری کمبختی ہے یا وجاہت بھائی کے ستارے کسی بلیک ہول میں بھٹک گئے کہ ایک روز ہم نے امریکی سیاست کی جانب ذرا گہری نظر سے دیکھ ہی لیا۔ کیا ہی دل خوش کن نظارہ تھا ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی بغل میں دبی بائبل کا۔

دل خوش کن یوں کہ یہودیت و اسلام کے برخلاف عیسائیت ریاست اور اس کے نظم سے بالکل خالی ہے، وہاں روحانیت و رہبانیت ہی سب کچھ ہے۔ سو وہاں سیاست کو مذہب میں انٹری دینے کا منطقی نتیجہ وہی نکلنا تھا جو رومن دور میں نکلا، اور مغرب نے ترقی تب کی جب انہوں نے اپنے غیر سیاسی مذہب کو سیاست سے باہر کردیا۔ یوں ٹرمپ کا پھر سے سیاست میں بائبل کو انٹری دینا ہم مسلمانوں کے لیے خوشخبری سے کم نہیں۔ کیونکہ یہ رومن ایمپائر والے انجام کی نوید ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مذہبی ہونا بالکل ویسا ہی ہے جیسے سندھی وڈیرے پیر بھی ہوتے ہیں۔ سو خود ٹرمپ نہیں جانتے کہ مذہبی ٹچ کیسے لگایا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے انہوں نے الگ سے بندے رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً مائیک ہکابی کو ہی لے لیجیے۔ ہم جس ماڈرن ورلڈ میں جی رہے ہیں اس کا عالمی قانون یہ ہے کہ کسی ریاست یا اس کے علاقے کو محض فوجی یلغار سے فتح کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ علاقہ فاتح کا ہوگیا۔ اب مفتوحہ علاقے کے لوگوں کی آزادانہ رائے عالمی برادری کا اسے تسلیم کرنا بھی ضروری ہے، لیکن اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ٹکر کارلسن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ لگ بھگ پورے مشرق وسطیٰ پر یہودیوں کا حق ہے، کیونکہ خدا نے بائبل میں ان سے اس سرزمین کا وعدہ کر رکھا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل اس سارے علاقے پر قبضہ کرلے تو یہ اچھا ہوگا۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ بھئی عالمی قانون تو اس کی اجازت نہیں دیتا تو یہ بات تو ٹرمپ صدر مادورو کے اغوا کے فوراً بعد واضح کرچکے کہ وہ عالمی قوانین کو اہمیت نہیں دیتے۔ اب اس صورتحال میں آسمانی کتاب کے حوالے کا جواب تو آسمانی کتاب سے ہی دیا جاسکتا ہے۔ سو ان کی اس نام نہاد وعدہ شدہ سرزمین کا ذکر قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ اور یہ ذکر اس صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ انہیں دوبار اقتدار دیا گیا جو اس شرط کے ساتھ مشروط تھا کہ یہ خدا کی اطاعت کریں گے اور فساد نہیں مچائیں گے، لیکن دونوں بار انہوں نے اس شرط کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں ذلیل کرکے اس علاقے سے بیدخل کروا دیا۔

اب سین یہ بنتا ہے کہ اگر موجودہ عالمی قوانین کے تحت چلنا ہے تو بھی اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور آسمانی ریفرنس کے مطابق چلنا ہے تو بھی ان سے کیا گیا وعدہ خود ان کی سرکشی کے سبب ایکسپائر ہوچکا، اور وہ بھی اسلام کے آنے سے صدیوں قبل۔ اونٹ سے کسی نے پوچھا تھا کہ تمہارے لیے چڑھائی چڑھنا زیادہ مشکل ہے یا اترنا؟ تو اس نے معصوم سی شکل بنا کر کہا تھا، میری کمر دونوں ہی صورتوں میں ٹوٹتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت، مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا، محسن نقوی

کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملے، افغان ترجمان نے تصدیق کردی

پاک فوج کے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی

پاک افغان سرحدی جھڑپیں: دشمن کی شکست مقدر ہے، افواج فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں، خواجہ آصف

افواج پاکستان ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں، صدر مملکت اور وزیر اعظم کے پیغامات

ویڈیو

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

پاکستان کیخلاف مودی، افغان اور نیتن یاہو کی ممکنہ سازش، قصور سانحہ، عمران ریاض بمقابلہ شاہد آفریدی

کالم / تجزیہ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان

ایک بار ہارڈ اسٹیٹ بن ہی جائیں