بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سمیت بعض رہنماؤں کی مبینہ خاموشی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ اب وہ اپنے بھائی کے لیے کھل کر آواز اٹھائیں گی، چاہے محسن نقوی کچھ بھی کرلیں، بانی نے کئی بار وکلا کو ہدایت کی کہ کیسز دائر کیے جائیں، مگر عملی طور پر کچھ نظر نہیں آ رہا، پارٹی قیادت مکمل خاموش ہے اور انہیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے کیسز کیوں آگے نہیں بڑھ رہے؟ علیمہ خان پارٹی قیادت پر برہم
علیمہ خان کی آج کی گفتگو نے پی ٹی آئی کے مستقبل، پارٹی قیادت کے اختیارات اور علیمہ خان کی پارٹی میں پوزیشن پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سینیئر تجزیہ کار منصور علی خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر اس وقت اصل طاقت کا مرکز غیر رسمی ہے، عملی طور پر پارٹی میں فیصلے علیمہ خان کے کہنے پر ہوتے ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی باضابطہ عہدہ موجود نہیں ہے، اگر حقیقت یہی ہے کہ پارٹی علیمہ خان چلا رہی ہیں تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ انہیں رسمی طور پر چیئرپرسن یا کم از کم انٹرنل چیئرپرسن مقرر کر دیا جائے تاکہ کنفیوژن ختم ہو۔
مشکلات کم ہوں گی یا بڑھیں گی؟
منصور علی خان نے کہا کہ علیمہ خان کو پارٹی چیئرمین بنانے میں مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان ہمیشہ موروثی سیاست کے خلاف رہے ہیں، اس لیے اس فیصلے کو سیاسی طور پر ڈیفینڈ کرنا مشکل ہوگا، حالانکہ عملی طور پر پارٹی پہلے ہی اسی سمت میں جا چکی ہے، لیکن اگر علیمہ خان باضابطہ طور پر پارٹی سنبھالتی ہیں تو کیا اس سے عمران خان کی مشکلات کم ہوں گی یا بڑھیں گی؟ یہ بھی ایک سوال ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ ماضی میں علیمہ خان کے بیانیے اور سوشل میڈیا کردار کو ناپسند کرتی رہی ہے۔
علیمہ خان اپنے بھائی کی صحت کی وجہ سے بہت تشویش میں ہیں
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ علیمہ خان کا بیان فطری ہے، وہ اپنے بھائی کی صحت کی وجہ سے بہت تشویش میں ہیں، پارٹی کے اندر اگر کوئی اختلاف یا بات چیت ہے تو اسے اندرونی سطح پر رہنا چاہیے، میڈیا میں لانے سے کنٹروورسی پیدا ہوتی ہے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹتی ہے، اس وقت پارٹی کی تمام تر توجہ عمران خان کے کیسز اور ان کی صحت سے متعلق معاملات پر ہونی چاہیے۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق تمام ایم این ایز، ایم پی ایز اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز دل سے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کی بیان بازی پارٹی کو نقصان پہنچا سکتی ہے، پارٹی کو میں نے علیمہ خان کے خلاف بیان دینے سے منع کر رکھا ہے۔
پارٹی کو سیاست نہیں کرنی چاہیے
سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کے مطابق عمران خان کی بیماری اور قانونی معاملات خالصتاً فیملی ایشو ہیں اور اس حوالے سے پارٹی کو سیاست نہیں کرنی چاہیے، اگر فیملی خود واضح طور پر یہ کہہ رہی ہے کہ وہ عمران خان کی صحت اور کیسز دیکھے گی تو پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ گورننس اور سیاسی ذمہ داریوں پر دے، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں۔
پارٹی رہنما ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں
سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اس وقت شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور پارٹی رہنما ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں، علیمہ خان کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کی موجودہ قیادت سے خوش نہیں اور کھل کر یہ مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ رہنما کچھ نہیں کر پا رہے۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان کب کب عمران خان کی رہائی میں رکاوٹ بنیں؟
احمد ولید کے مطابق دوسری جانب علی امین گنڈا پور اور شیر افضل مروت جیسے رہنماؤں کے سخت بیانات نے پارٹی میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، پارٹی عملی طور پر قیادت کے بغیر چل رہی ہے اور اگر کوئی قیادت موجود بھی ہے تو اسے تسلیم کرنے پر آمادگی نہیں۔














