سعودی عرب کے شمال مغرب میں قائم پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو نے پہلی مرتبہ عالمی سطح پر صحرائی بلی (Felis margarita) پر جی پی ایس ٹریکنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے 6 بلیوں کو کالر پہنائے اور ان کا ڈیٹا کامیابی سے حاصل کرلیا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی جڑواں بچوں کی علیحدگی کے لیے سعودی عرب میں طبی معائنہ شروع
ریزرو کے ماہرینِ ماحولیات نے 3 نر اور 3 مادہ صحرائی بلیوں کو محفوظ طریقے سے پکڑ کر ان کا طبی معائنہ کیا اور ہلکے وزن کے خصوصی جی پی ایس کالر پہنائے۔ ہر کالر جانور کے جسمانی وزن کے 3 فیصد سے کم تھا اور اس میں خودکار طور پر الگ ہونے کا نظام نصب تھا، جو قریباً 3 ماہ بعد کالر کو جانور سے جدا کردیتا ہے تاکہ کم سے کم خلل پڑے۔

یہ منصوبہ رائل زولوجیکل سوسائٹی آف اسکاٹ لینڈ کی وائلڈ جینز لیبارٹری کے اشتراک سے مکمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں صحرائی بلی کا معیاری ریفرنس جینوم تیار کیا گیا۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ صحرائی بلی کی 4 نہیں بلکہ 2 ذیلی اقسام ہیں، جو حالیہ سائنسی اشاعتوں کی تائید کرتا ہے۔
635 راتوں پر محیط نگرانی کے دوران 3 ہزار سے زائد جی پی ایس مقامات ریکارڈ کیے گئے، جن سے ان کے مسکن، آرام گاہوں، شکار کے علاقوں اور باہمی روابط سے متعلق غیر معمولی معلومات حاصل ہوئیں۔ چونکہ یہ بلی زیادہ تر رات کو سرگرم ہوتی ہے، اس لیے کالرز کو شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک ہر 2 گھنٹے بعد مقام ریکارڈ کرنے کے لیے پروگرام کیا گیا تھا۔
ریزرو کے سی ای او اینڈریو زالومِس کے مطابق کم وزن کالر اس لیے ضروری تھا تاکہ جانور کی قدرتی حرکت اور شکار کے رویے پر اثر نہ پڑے۔ ماہر ماحولیات جوش اسمتھسن نے کہا کہ جدید جی پی ایس ٹیکنالوجی نے روایتی وی ایچ ایف نظام کی جگہ لے کر تحقیق کو نئی جہت دی ہے۔
صحرائی بلی دنیا کی دوسری سب سے چھوٹی جنگلی بلی ہے اور واحد نوع ہے جو مکمل طور پر حقیقی صحرائی ماحول میں رہتی ہے۔ یہ شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ریگستانوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کا وزن عموماً ڈیڑھ سے ساڑھے 3 کلوگرام کے درمیان ہوتا ہے۔
اس کے چوڑے سر اور بڑے کان ریت کے نیچے موجود چوہوں اور رینگنے والے جانوروں کی ہلکی آوازیں سننے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے پنجوں کے نیچے قریباً 2 سینٹی میٹر لمبی گھنی کھال ہوتی ہے جو شدید گرمی سے بچاتی اور ریت پر بغیر نشان چھوڑے چلنے میں مدد دیتی ہے۔

اگرچہ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے عالمی سطح پر اسے ’کم خطرے‘ کی فہرست میں رکھا ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں اسے نسبتاً زیادہ خطرات لاحق ہیں، جن میں چراگاہوں کی تباہی، انفراسٹرکچر کی توسیع، غیر قانونی شکار اور آوارہ جانوروں سے پھیلنے والی بیماریاں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بلیاں کینسر کے علاج کے لیے اہم سراغ فراہم کریں گی
بدوی لوک کہانیوں میں صحرائی بلی کو ’صحرا کا بھوت‘ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نئی ٹریکنگ تحقیق نہ صرف اس نایاب جانور کی نقل و حرکت کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں اس کے مسکن کے تحفظ کے لیے بھی اہم بنیاد فراہم کر رہی ہے۔














