پالتو بلیوں میں کینسر کا پہلا تفصیلی جینیاتی نقشہ تیار کر لیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ بلیوں اور انسانوں میں پائے جانے والے کینسر میں نمایاں مماثلت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے رحم کے کینسر پر قابو پانے کا اہم عنصر دریافت کرلیا
جریدے سائنس میں شائع ہوئی ہے ایک تحقیق کے مطابق اس دریافت سے انسانوں اور بلیوں دونوں میں کینسر کے نئے علاج تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سائنس دانوں نے تقریباً 500 گھریلو بلیوں کے ٹیومر کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا جس سے کینسر سے جڑی اہم جینیاتی تبدیلیاں سامنے آئیں۔
کینسر بلیوں میں بیماری اور موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے تاہم اب تک اس کے بننے اور پھیلنے کے طریقہ کار کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب تھیں۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر لوئس وان ڈر ویڈن نے کہا کہ بلیوں میں کینسر کی جینیات اب تک مکمل طور پر ایک معمہ بنی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ہم کسی بھی جاندار میں کینسر کو جتنا بہتر سمجھیں گے اس کا فائدہ سب کو ہوگا۔
ویلکم سینگر انسٹیٹیوٹ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی ٹیم نے بلیوں میں پائے جانے والے کینسر کی 13 اقسام سے منسلک تقریباً 1,000 جینز کا جائزہ لیا۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں کینسر کے مریضوں کے لیے بڑی خوشخبری، اب ادویات مفت ملیں گی
تحقیق سے معلوم ہوا کہ بلیوں میں کینسر پیدا کرنے والے کئی جین انسانوں میں بھی اسی طرح کام کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں میں ٹیومر کے بڑھنے اور پھیلنے کے بنیادی حیاتیاتی عمل مشترک ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گھریلو بلیاں چھاتی کے کینسر کی بعض اقسام خصوصاً ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ چھاتی کے کینسر کے ہر 100 میں سے تقریباً 15 کیسز اس قسم کے ہوتے ہیں۔
بلیوں میں اس قسم کا کینسر انسانوں کے مقابلے میں زیادہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے سائنس دانوں کو زیادہ نمونے دستیاب ہوتے ہیں اور نئے ممکنہ علاج تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دنیا بھر میں اکثر گھرانوں میں کم از کم ایک بلی موجود ہوتی ہے جس سے یہ جانور کتوں کی طرح ایک مقبول ساتھی سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: فضائی آلودگی مردوں میں کون سے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے؟
اگرچہ کتوں پر کینسر سے متعلق وسیع پیمانے پر تحقیق کی جا چکی ہے لیکن بلیوں پر اب تک نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گھریلو پالتو جانور بعض اقسام کے کینسر میں ماحولیاتی عوامل کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے ساتھ ایک ہی ماحول میں رہتے ہیں اور انہی ماحولیاتی اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: تھائرائیڈ کینسر: خواتین میں 3 گنا زیادہ خطرہ، محفوظ کیسے رہیں؟
کینیڈا کے اونٹاریو ویٹرنری کالج کے پروفیسر جیفری ووڈ کے مطابق اس تحقیق سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ بلیوں اور انسانوں میں کینسر کیوں پیدا ہوتا ہے، ہمارا ماحول اس کے خطرے پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے اور ہم اس کی روک تھام اور علاج کے نئے طریقے کیسے تلاش کر سکتے ہیں۔














