عدالتوں اور بار رومز کی سولرائزیشن ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف جسٹس اور چیئرمین لا اینڈ جسٹس کمیشن جسٹس یحییٰ آفریدی نے ملک گیر عدالتی انفرااسٹرکچر اصلاحات کا اعلیٰ سطحی جائزہ لیتے ہوئے عدالتوں اور بار رومز کی سولرائزیشن کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جہاں گرڈ بجلی کی فراہمی قابلِ اعتماد نہیں وہاں شمسی توانائی کے نظام نصب کیے جائیں گے، جبکہ پنجاب حکومت نے 31 اگست 2026 تک صوبے بھر کی عدالتوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ سولرائزیشن محض توانائی کا منصوبہ نہیں بلکہ عدالتی کارکردگی، وقار اور نچلی سطح پر انصاف تک رسائی کو مضبوط بنانے کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: معطل سرکاری ملازم پوری تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے

اجلاس میں سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن اور تمام صوبوں کے ریزیڈنٹ ایڈیشنل سیکریٹریز شریک ہوئے۔

پیش رفت کا تفصیلی جائزہ جوڈیشل ڈیولپمنٹ فنڈ، انڈر ڈیولپڈ ریجنز ونڈو، ایکسس ٹو جسٹس ڈیولپمنٹ فنڈ اور وفاقی و صوبائی گرانٹ اِن ایڈ کے تحت جاری منصوبوں پر لیا گیا۔

فنڈنگ کی دستیابی، تکنیکی صلاحیت، عمل درآمد کی رفتار اور انتظامی خلا پر غور کرتے ہوئے باقی ماندہ رکاوٹوں کی نشاندہی اور بروقت تکمیل کے لیے اقدامات کی ہدایت کی گئی۔

مزید پڑھیں: عدالتی اصلاحات کے سلسلے میں اہم سنگ میل، نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ اجرا

پنجاب میں ایک ارب روپے سے زائد مالیت کے جامع پیکج کے تحت 99.575 ملین روپے انڈر ڈیولپڈ ریجنز، 1,042.893 ملین روپے جوڈیشل ڈیولپمنٹ فنڈ اور 490.442 ملین روپے گرانٹ اِن ایڈ سے مختص کیے گئے ہیں۔

صوبے میں 56 بار رومز کی سولرائزیشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ 47 پر کام جاری ہے۔ کسر اور تحصیل فورٹ عباس، بہاولنگر کے ضلعی عدالتی کمپلیکسز کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے۔

انرجی ڈیپارٹمنٹ نے صوبہ بھر کا سروے مکمل کر کے پی سی ون تیار کر لیا ہے۔ دیگر اصلاحات کے تحت 62 بار رومز اور عدالتوں میں ای لائبریریاں قائم کی جا چکی ہیں اور مزید 53 بار رومز اور 68 عدالتوں تک توسیع کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: ممنوعہ رشتے میں نکاح کا دعویٰ مسترد، حیاتیاتی والد نان و نفقہ کا ذمہ دار قرار

47 جوڈیشل کمپلیکسز میں واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے ہیں، جبکہ 32 ڈے کیئر سینٹرز، 74 ویمن فسیلیٹیشن سہولیات، 75 وزٹیشن رومز، 58 خواتین عملہ کے کامن رومز اور 63 علیحدہ واش رومز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

سندھ میں منظورہ پیکج کے تحت عدالتوں اور بار رومز کی سولرائزیشن، ای لائبریریاں، ای کیوسک مشینیں، فلٹریشن پلانٹس اور خواتین سہولیات کی فراہمی کے ساتھ گرمی سے متاثرہ 12 علاقوں میں ایئر کنڈیشننگ کی تنصیب بھی شامل ہے، جہاں خاندانی عدالتوں میں 16 دو ٹن اے سی لگائے گئے ہیں۔

صوبے میں 65 بار رومز، جن میں 24 ضلعی اور 41 تعلقہ سطح کے ہیں، جبکہ 92 عدالتوں کی سولرائزیشن کی جا رہی ہے جن میں متعدد مقامات پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ 37 بار رومز اور 61 عدالتوں میں ای لائبریریاں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ 19 تعلقہ مقامات پر بار اور بینچ کے لیے مشترکہ ای لائبریریاں بنائی گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا ملکی نظام انصاف میں اصلاحات کے لیے اقوامِ متحدہ کے تعاون پر زور

11 اضلاع میں فلٹریشن پلانٹس اور 28 اضلاع کی عدالتوں تک پانی کی سہولت کی توسیع کی گئی ہے، 28 اضلاع اور 19 تعلقہ مقامات پر خواتین مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے لیے بھی ایک مرکز منظور کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں 24.8 ملین روپے انڈر ڈیولپڈ ریجنز، 247 ملین روپے جوڈیشل ڈیولپمنٹ فنڈ اور 277 ملین روپے گرانٹ اِن ایڈ کے تحت منصوبے جاری ہیں۔ صوبے میں 51 بار رومز اور 39 عدالتوں کی سولرائزیشن کی جا رہی ہے جبکہ 66 بار رومز اور 62 عدالتوں میں ای لائبریریاں قائم کی جا رہی ہیں۔

جنوبی بیلٹ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے 22 اضلاع اور 11 تحصیلوں میں فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے ہیں۔ پشاور میں 6 فیملی کورٹ رومز کی تعمیر اور تخت بھائی، مردان میں 4 عدالتوں پر مشتمل بلاک کی تعمیر بھی جاری ہے۔

مزید پڑھیں: جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا ناقابلِ قبول، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

صوبہ بھر میں 6 کلو واٹ ہائبرڈ سولر سسٹمز، مکمل ای لائبریریاں اور آر او پلانٹس کی تنصیب کے لیے مزید 298 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں، خواتین کے لیے انٹیگریٹڈ سروس سینٹر ’دا سر سوری‘ سواتی اور ہری پور میں پائلٹ بنیادوں پر قائم کیا جا رہا ہے جہاں قانونی معاونت، تحفظ، متبادل تنازعاتی حل اور دیگر سپورٹ سروسز ایک چھت تلے فراہم ہوں گی۔

بلوچستان میں 10.31 ملین روپے انڈر ڈیولپڈ ریجنز، 64.01 ملین روپے جوڈیشل ڈیولپمنٹ فنڈ اور 172.16 ملین روپے گرانٹ اِن ایڈ کے تحت تمام 35 سیشن ڈویژنز کی 52 عمارتوں میں سولرائزیشن کا عمل شروع کیا جا چکا ہے، جن میں سے 26 مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی کے ٹینڈرز اور اپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے۔

منصوبے کی تکمیل 30 جون 2026 تک متوقع ہے۔ تمام ڈویژنز میں بار اور بینچ کے لیے ای لائبریریاں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ 13 ڈویژنز میں فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے ہیں اور 35 میں سولر ٹیوب ویلز کی درخواست دی گئی ہے۔ ہر سیشن ڈویژن میں ایک ای کورٹ کے قیام کے لیے بھی ٹینڈرز جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ کورس کی اختتامی تقریب، سپریم کورٹ کے ججز کی شرکت

تمام منصوبے سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن کی نگرانی اور چیف جسٹس کی ذاتی مانیٹرنگ میں جاری ہیں جبکہ صوبائی ریزیڈنٹ ایڈیشنل سیکریٹریز بین الادارہ جاتی ہم آہنگی، معیار اور مقررہ ٹائم لائنز کی پابندی یقینی بنا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ باقی ماندہ انفرا اسٹرکچر خلا کی واضح نشاندہی کی جائے، انتظامی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے اور مقامی موسمی و عملی حقائق کے مطابق آن گرڈ اور آف گرڈ حل اختیار کیے جائیں تاکہ عدالتی نظام کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟