محمد مستقر رحمان نے جمعرات کی صبح باضابطہ طور پر بنگلہ دیش بینک کے نئے گورنر کے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔
وہ تقریباً ساڑھے 10 بجے مرکزی بینک کے ہیڈکوارٹر پہنچے جہاں ڈپٹی گورنرز اور گورنر آفس کے اعلیٰ حکام نے انہیں گلدستے پیش کرکے استقبال کیا۔
حکومت نے ایک روز قبل مستقر رحمان کو 4 سالہ مدت کے لیے گورنر مقرر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش بینک کے گورنر احسن ایچ منصور عہدے سے ہٹا دیے گئے
وہ ڈاکٹر احسن ایچ منصور کی جگہ تعینات کیے گئے ہیں جن کی بقیہ مدتِ ملازمت مرکزی بینک کے ملازمین کے احتجاجی مظاہروں کے سلسلے کے دوران منسوخ کر دی گئی۔
ڈاکٹر منصور کو 13 اگست 2024 کو گورنر مقرر کیا گیا تھا، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد ان کی تقرری ختم کر دی گئی۔
روایتی طریقۂ کار سے ہٹ کر مستقر رحمان ملک کے پہلے کاروباری شخصیت ہیں جو مرکزی بینک کی قیادت سنبھال رہے ہیں۔
New Bangladesh Bank governor had Tk 89cr loans rescheduled before appointment
M T Bank rescheduled Tk 89 cr in stressed loans for Hera Sweaters, a garment exporter owned by Mostaqur Rahman, months before he was appointed governor of BB!
via @dailystarnews https://t.co/qI9Wj270yk pic.twitter.com/mIlSe9MRPI— Ⓙⓐⓨⓓⓔⓔⓟ⚽Ⓖⓗⓞⓢⓗ (@ENjoydeepLY) February 26, 2026
اس سے قبل گورنرز کا تقرر عموماً ماہرینِ معاشیات یا سینیئر سول سرونٹس میں سے کیا جاتا تھا۔ رحمٰن ہیرا سوئیٹرز لمیٹڈ کے مالک ہیں۔
وہ اس سے قبل بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی اس اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں جو بنگلہ دیش بینک سے متعلق امور دیکھتی تھی۔
وہ مختلف تجارتی تنظیموں سے بھی وابستہ رہے ہیں، جن میں رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز، ٹریول ایجنٹس اور ڈھاکہ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے محمد علی حسین فقیـر کو نیا انسپکٹر جنرل پولیس مقرر کردیا
اس کے علاوہ وہ چٹاکانگ اسٹاک ایکسچینج میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق رحمٰن کی ملکیتی برآمدی کمپنی میوچل ٹرسٹ بینک سے قرض لینے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔
گزشتہ سال اپریل میں کمپنی نے بنگلہ دیش بینک کی خصوصی سہولت کے تحت تقریباً 8.902 ارب ٹکا کے قرض کی ری شیڈولنگ کی درخواست دی تھی۔
مرکزی بینک نے 10 سالہ نظرثانی شدہ ادائیگی منصوبے کی منظوری دی جس میں ایک سال کی رعایتی مدت بھی شامل تھی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش حکومت نے 9 سیکریٹریز کی کنٹریکٹ تقرریاں منسوخ کردیں
اس وقت کمپنی کے ذمے بقایا قرض کا حجم تقریباً 8.6 ارب ٹکا بتایا جاتا ہے۔
فائنانشل انسٹی ٹیوشنز ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ محمد مستقررحمان کو عہدہ سنبھالنے کی تاریخ سے 4 سال کے لیے گورنر مقرر کیا گیا ہے،
تاہم انہیں دیگر اداروں اور تنظیموں کے ساتھ تمام پیشہ ورانہ وابستگیاں ترک کرنا ہوں گی۔
اسی حکم نامے میں ڈاکٹر احسن ایچ منصور کی باقی مدت منسوخ کرنے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔














