اسلام آباد کے مضافات میں واقع ایک ورکشاپ میں پاکستانی فنکار احتشام جدون کچرے میں پڑی گاڑیوں کے پرزوں کو ‘ٹرانسفارمرز’ فلموں اورٹائرا نوساروس ریکس سے متاثرہ دیو قامت مجسموں میں ڈھال رہے ہیں۔
35 سالہ مجسمہ ساز کے اسٹوڈیو میں گیئرز، چینز، ہب کیپس اور انجن کے پرزے بکھرے ہوئے ہیں، جہاں وہ ایک شیروں کی مصنوعی یال، ایک دیو قامت ٹائرا نوساروس ریکس اور 14 فٹ لمبا ‘آپٹیمس پرائم’ تیار کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑی کے شیشوں پر منٹوں میں حیران کن فن پارے، پیٹرول پمپ پر کام کرنے والا نوجوان آرٹسٹ سوشل میڈیا پر وائرل
احتشام جدون نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘میں ہمیشہ دھات سے متاثر رہا ہوں۔ جب میں کچرے میں دھات دیکھتا ہوں تو فوراً اس کی شکل کا تصور کرتا ہوں۔’
انہوں نے بتایا کہ ‘آپٹیمس پرائم’ کی تیاری میں کئی مہینے لگے اور اس کے 90 فیصد سے زیادہ پرزے پرانی گاڑیوں سے حاصل کیے گئے۔

’بازو موٹرسائیکل کی اسپرنگز اور گیئرز سے بنائے گئے، کندھے کار کے رم سے تیار کیے گئے، ریڑھ کی ہڈی فیول ٹینک سے بنائی گئی اور گھٹنے چینز اور سسپنشن کے پرزوں سے جوڑے گئے۔‘
احتشام جدون نے کہا کہ ‘ہر شے دیکھ کر میں اس کی شکل ذہن میں لے آتا ہوں۔ کچرے کو قیمتی فن میں بدلنا میری عادت ہے۔’
یہ بھی پڑھیں: مانسہرہ کی اسپیشل آرٹسٹ کنیز فاطمہ کے کمال فن پارے
یہ سابق مارشل آرٹسٹ اور اسٹیل فابریکیشن کے شعبے میں کام کرنے والے فنکار نے کبھی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی، لیکن وہ اپنے دیو قامت ماڈلز کو خود بخود ڈیزائن کرتے ہیں۔

ورکشاپ کے قریب ایک سکریپ یارڈ کے مالک بستان خان نے کہا کہ ‘جو چیز ہمارے لیے فضول ہے، وہ اس کے ہاتھوں میں قیمتی بن جاتی ہے۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔’
احتشام جدون کے مجسمے عموماً دیو قامت، جانور اور طاقتور شکلوں پر مرکوز ہیں اور وہ انہیں جارحیت کی عکاسی قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجسمہ تیار کرنے کے لیے متعدد زاویوں سے مشاہدہ اور بار بار اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔














