آئی ایم ایف مشن کی کراچی آمد، مالیاتی توازن اور مانیٹری پالیسی کا جائزہ

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اسٹاف مشن نے قرضوں کے جائزے کے لیے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں، جو ملک کے 7 بلین ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور 1.4 بلین ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے اگلے قسط کے اجرا کا فیصلہ کریں گی، متعلقہ حکام نے جمعرات کو بتایا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ کلائمیٹ فائنانسنگ پر مذاکرات کے لیے تیار

یہ دورہ تیسری ای ایف ایف جائزہ اور دوسری آر ایس ایف جائزہ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہے، جنہیں پاکستان کی نازک اقتصادی بحالی کو برقرار رکھنے اور بیرونی مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ مذاکرات میں مالیاتی توازن، مانیٹری پالیسی, ساختی اصلاحات اور آر ایس ایف پروگرام سے منسلک موسمیاتی اہداف پر توجہ متوقع ہے۔

ایک آئی ایم ایف اہلکار نے عرب نیوز کو بتایا کہ ٹیم اب پاکستان میں موجود ہے، تاہم چونکہ ملاقاتیں جاری ہیں، انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

دورے کے دوران آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کے تجارتی دارالحکومت کراچی میں ملاقاتیں شروع کیں، جہاں انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے بینکنگ ریگولیٹرز سے ملاقات کی۔

واشنگٹن میں گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر جولی کوزیک نے کہا تھا کہ اسٹاف ٹیم 25 فروری سے پاکستانی حکام کے ساتھ جائزہ مذاکرات کا آغاز کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتِ پاکستان آئی ایم ایف کے سامنے ڈھیر، گیس اور بجلی مزید مہنگی ہوگی

عمومی طور پر آئی ایم ایف کے اسٹاف مشن دو ہفتوں کے اندر جائزہ مذاکرات مکمل کرتے ہیں، جبکہ اگر دورے کے دوران جائزہ مکمل نہ ہو تو باقی مذاکرات ورچوئل طور پر جاری رہتے ہیں۔

دوسری جانب، ایک سینئر ایس بی پی اہلکار نے کراچی میں آئی ایم ایف وفد کی  کی تصدیق کی لیکن ملاقات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ایس بی پی نے جنوری میں مارکیٹ کی توقعات کے برعکس شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھی، جسے تجزیہ کاروں نے آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا۔

آئی ایم ایف کمیونیکیشن ڈائریکٹر نے گزشتہ ہفتے کہا کہ پاکستان کی حالیہ کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

کوزیک نے صحافیوں سے کہا کہ آی ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی کوششوں نے معیشت کو مستحکم کرنے اور اعتماد دوبارہ قائم کرنے میں مدد کی ہے، مالی سال 2025 میں پاکستان کا بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا 1.3 فیصد رہا، جو پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔ افراط زر نسبتا قابو میں رہی اور پاکستان نے مالی سال 2025 میں 14 سال بعد پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی حاصل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف وفدمعاشی جائزے کے لیے 25 فروری کو پاکستان آئے گا، اصلاحات کی تعریف

7 بلین ڈالر کا ای ایف ایف پروگرام، جو 2024 میں حاصل کیا گیا، مالیاتی نظم و ضبط، مارکیٹ کے تعین شدہ ایکسچینج ریٹس اور ساختی اصلاحات کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

1.4 بلین ڈالر کی آر ایس ایف اس کی تکمیل کرتی ہے اور موسمیاتی لچک اور پائیداری اصلاحات کی حمایت کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان