بہن بھائی کا رشتہ بے حد منفرد ہوتا ہے۔ ایک ہی گھر، ایک جیسے حالات اور ایک ہی والدین، مگر پھر بھی کبھی کبھار دل میں موازنہ اور مقابلے کا احساس جنم لے لیتا ہے۔ جب ایک بچے کی زیادہ تعریف ہو یا اسے زیادہ کامیاب سمجھا جائے تو دوسرے کے دل میں احساسِ کمتری، دکھ اور کبھی حسد پیدا ہو سکتا ہے، جو فطری تو ہے مگر اگر دل میں جگہ بنا لے تو رشتوں کو کمزور کر دیتا ہے۔ حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ حسد دلوں کو توڑ دیتا ہے، جبکہ درگزر انہیں جوڑ دیتا ہے۔ اکثر بہن بھائیوں کی حسد دراصل نفرت نہیں بلکہ پہچان اور توجہ کی خواہش ہوتی ہے۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ موازنہ کرنے کے بجائے ہر بچے کی انفرادی خوبی کو پہچانیں، کیونکہ انصاف برابری نہیں بلکہ ہر ایک کو اس کی پہچان دینا ہے۔ رمضان دل صاف کرنے کا مہینہ ہے، اپنی قدر پہچانیں، بہن بھائی کو حریف نہیں ساتھی سمجھیں، اور دل میں حسد کے بجائے ان کے لیے دعا کریں، کیونکہ جہاں دعا شروع ہوتی ہے وہاں حسد ختم ہو جاتا ہے۔ اللہ نے آپ کو کسی سے کم نہیں بنایا۔ سکون میں رہیں، خوش رہیں۔














