بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کے ساتھ ہی طالبان سے منسلک پلیٹ فارم المِرصاد نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف بیانیہ تیز کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک طرف بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون میں پیشرفت ہو رہی ہے، تو دوسری جانب افغان حلقوں میں ’سیکنڈ اسرائیل‘ جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے پاکستان کو افغان عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل، بھارت اور افغان طالبان کا شیطانی گٹھ جوڑ
ذرائع کے مطابق المِرصاد کی تازہ مہم میں پاکستان کو خطے میں بدامنی کا معمار قرار دیا گیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کا دہشتگردی اور سرحد پار حملوں سے متعلق ریکارڈ کہیں زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔
رپورٹس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ جیسے جیسے بھارت کابل میں اپنی سفارتی موجودگی بڑھا رہا ہے، ویسے ہی پاکستان کے خلاف بیانیہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس میں افغانستان کے اندر تحریکِ طالبان پاکستان اور دیگر گروہوں کو آپریشنل گنجائش ملنے کا ذکر بھی سامنے آ چکا ہے، جس سے سرحد پار حملوں پر تشویش مزید بڑھی ہے۔

مبصرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ غزہ کے معاملے پر طالبان کی خاموشی اور بعض جغرافیائی سیاسی روابط ان کی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگست 2022 میں طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم وردک کا الجزیرہ کو دیا گیا بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں اسرائیل سے کیا مسئلہ ہے؟‘، سفارتی حلقوں میں خاصی توجہ کا باعث بنا تھا۔ اسی سال طالبان کے نمائندے سہیل شاہین کی اسرائیلی ٹی وی چینل ’کان ٹی وی‘ پر گفتگو بھی زیرِ بحث رہی۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان اور ٹی ٹی پی بھارت سے ملے ہیں، کے پی حکومت کے لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، خواجہ آصف کا انکشاف
اس کے علاوہ جنوری 2022 میں اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک اسرائیلی مخیر شخصیت کے ذریعے افغان پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کو دی گئی مالی امداد کو بعض تجزیہ کار پسِ پردہ روابط کی مثال قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں استحکام ایسے وقت میں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے جب ایک جانب سفارتی روابط میں تبدیلیاں آئیں اور دوسری جانب سرحد پار دہشتگردی کے الزامات برقرار رہیں۔ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ علاقائی ممالک شفاف سفارت کاری اور سیکیورٹی تعاون کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں۔














