ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ صلاح الدین احمد نے چین کو ملک کا قابلِ اعتماد اور دیرینہ ترقیاتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں اپنی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ کریں۔ یہ بات انہوں نے وزارتِ داخلہ میں بنگلہ دیش میں چین کے سفیر یاؤ وین سے ملاقات کے دوران کہی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے امیدوار نامزد کردیا
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ بنگلہ دیش اور چین کے درمیان آزمودہ دوستی موجود ہے اور خطے کی اسٹریٹجک اور جغرافیائی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈھاکہ دوطرفہ تعلقات کو نئی سطح تک لے جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین پہلے ہی بنگلہ دیش کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کر چکا ہے اور امید ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں اس حجم میں مزید اضافہ ہوگا۔

چینی سفیر یاؤ وین نے کہا کہ بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 10 ہزار چینی شہری مختلف شعبوں میں بنگلہ دیش میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی اور سکیورٹی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے قانون کی بالادستی اور امن و امان کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
وزیرِ داخلہ نے جواب میں کہا کہ امن و امان کا قیام اور استحکام موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت عوامی مینڈیٹ کے تحت کام کر رہی ہے۔

ملاقات میں چین کی وزارتِ پبلک سکیورٹی کی جانب سے تجویز کردہ ’انٹرنیشنل الائنس کامبیٹنگ ٹیلی کام اینڈ سائبر فراڈ‘ میں بنگلہ دیش کی شمولیت پر بھی بات چیت ہوئی۔ چینی سفیر نے بتایا کہ اس حوالے سے باضابطہ تجویز متعلقہ ذرائع سے ارسال کی جا چکی ہے۔
فریقین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت سے متعلق ایکشن پلان کے مفاہمتی یادداشت کی تجدید پر بھی غور کیا، جو 2023 میں ختم ہو چکی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے متعلقہ حکام کو اس معاہدے کا جائزہ لے کر تجدید کے لیے اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے مناسب وقت پر چین کے دورے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔

ملاقات کے آغاز میں چینی سفیر نے نئے تعینات وزیرِ داخلہ کو مبارکباد دی اور چین کے وزیرِ پبلک سکیورٹی کی جانب سے نیک تمناؤں کے ساتھ ستمبر میں چین کے دورے کی دعوت بھی پہنچائی۔ اجلاس میں وزارتِ داخلہ بنگلہ دیش اور چینی سفارت خانے کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔














