طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے کابل، قندھار اور پکتیا کے بعض علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے پاکستانی فوج کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
The cowardly Pakistani military has carried out airstrikes in certain areas of Kabul, Kandahar, and Paktia; fortunately, there have been no reported casualties.
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) February 26, 2026
ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کے تحت بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صبح 3:40 بجے تک کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں طالبان کے دفاعی اہداف کو فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔
عاجل:
قام الجيش الباكستاني الجبان بقصف بعض الأماكن في كابل وقندهار وبكتيا ، ولله الحمد لم يصب أحد بأذى.— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) February 26, 2026
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
دونوں جانب سے بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔














