پاک فضائیہ نے ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کی 7ویں سالگرہ نہایت وقار کے ساتھ منائی۔
یہ دن جدید فضائی جنگ میں عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور نپی تلی جوابی کارروائی کی ایک تاریخی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف دی ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جو باوقار امن کا خواہاں ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 7 برس قبل جارح نے تاریکی کی آڑ میں پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرتے ہوئے اس کے عزم اور صلاحیت کا غلط اندازہ لگایا، تاہم پاک فضائیہ کی دن کی روشنی میں کی گئی متوازن اور مؤثر کارروائی نے عددّی طور پر برتر حریف کے مقابل قابلِ اعتماد مزاحمت کو دوبارہ مستحکم کیا۔
ایئر چیف نے بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی سکیورٹی ماحول اور جنگ کے ارتقائی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ مارچ 2021 سے مالی مشکلات کے باوجود پاک فضائیہ نے جامع جدیدیت اور انڈیجینائزیشن کی حکمتِ عملی اپنائی تاکہ خود کو نیکسٹ جنریشن ایئر فورس میں ڈھالا جا سکے۔

ایئر چیف کے مطابق پی اے ایف نے اپنی آپریشنل ڈاکٹرائن کو ازسرِ نو ترتیب دیا اور تیزی سے جدید جنگی و معاون صلاحیتیں شامل کیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ بغیر پائلٹ نظام، الیکٹرونک وارفیئر، اسپیس اور سائبر اثاثے شامل ہیں۔ اس طرح ایک منفرد، مقامی سطح پر تیار کردہ ملٹی ڈومین ’کل چین‘ قائم کی گئی۔
مئی 2025 کے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ایک بار پھر پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو پاک فضائیہ نے پہلی مرتبہ فل اسپیکٹرم ملٹی ڈومین آپریشنز انجام دیے، جو نہایت درستگی کے ساتھ مکمل ہوئے اور حریف پر فیصلہ کن برتری حاصل کی گئی۔
ان کے مطابق جدید پلیٹ فارمز، جن میں ڈیسالٹ میراج 2000، سخوئی سو 30 ایم کے آئی، ڈیسالٹ رافیل اور میکویان مگ 29 سمیت بغیر پائلٹ فضائی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید برآں، دشمن کے اندرونِ علاقے گہرائی تک کارروائیاں کی گئیں اور ایس 400 میزائل سسٹم کے فضائی دفاعی نظام اور اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو غیر مؤثر بنایا گیا۔
آخر میں ایئر چیف نے قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ آئندہ بھی قابلِ اعتماد دفاعی صلاحیت، چوکنا مگر ذمہ دارانہ دفاعی رویہ اور قومی فخر کی علامت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔














