وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں ہماری سیکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اہم اجلاس میں صوبے میں جاری سیکیورٹی اقدامات، دہشتگردی کے حالیہ واقعات اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں سہیل آفریدی نے امن و امان کے قیام پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ سب سے بڑی ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل
سہیل آفریدی نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ جامع اور واضح حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں اور دستیاب وسائل کا موثر استعمال یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ صوبے میں سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کا فرنٹ لائن پر مقابلہ کر رہی ہیں جنہیں کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے رمضان المبارک میں ختم قرآن اجتماعات کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایت بھی دی اور محکمہ پولیس میں خالی آسامیوں کو جلد پر کرنے اور ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
مزید پڑھیں: پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو ہارڈ ایریا ڈیکلیئر کرنے کے لیے وفاق سے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا، اجلاس میں دہشتگردی سے متاثرہ اہلکاروں کے لیے مصنوعی اعضا کی باضابطہ پالیسی بھی وضع کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قوم کے لیے خود کو خطرے میں ڈالنے والے فورسز کے جوانوں کی ہر ممکن معاونت کریں گے اور دستیاب وسائل کے مطابق حالات کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال اب تک محکمہ پولیس کو پروکیورمنٹ کے لیے 15.1 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں، 9 ہزار سے زائد آسامیوں کے بھرتی ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں اور عید سے پہلے بھرتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کے کتنے ٹھکانے تباہ اور کون کون سے اہم کمانڈر مارے گئے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
پشاور، ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں سیف سٹی پروجیکٹس افتتاح کے لیے تیار ہیں، جبکہ کرک، ٹانک اور شمالی وزیرستان کے منصوبوں کے پی سی ون محکمہ داخلہ کو بھیج دیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے سیف سٹی پروجیکٹس کے عملی نتائج کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ اجلاس کرنے اور عوام کو اس مقصد کے لیے آگاہ کرنے کی ہدایت دی، انہوں نے ہفتہ وار بنیاد پر امن و امان کے جائزے کے اجلاس بھی منعقد کرنے کا اعلان کیا۔











