پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی سے خوفزدہ افغانستان نے قطر کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
افغانستان کے نگراں وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے پاکستان سے کشیدگی کے پیشِ نظر قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
قطر کی وزارت خارجہ کے جاری بیان کے مطابق اس رابطے میں پاک افغان تعلقات میں موجود کشیدگی کم کرنے، خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے اور مسائل کے پرامن حل کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قطری وزیر مملکت نے خطے اور بین الاقوامی سطح پر تنازعات کے پرامن حل کے لیے قطر کی حمایت کا اعادہ کیا اور پائیدار امن کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
Minister of State at Ministry of Foreign Affairs @Dr_Al_Khulaifi Receives Phone Call from Afghanistan's Acting Foreign Minister
Doha | February 27, 2026
HE Minister of State at the Ministry of Foreign Affairs Dr. Mohammed bin Abdulaziz bin Saleh Al Khulaifi received Friday a… pic.twitter.com/uchYECergE
— Ministry of Foreign Affairs – Qatar (@MofaQatar_EN) February 27, 2026
یاد رہے کہ ڈی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان کے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان رجیم اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں، دنیا سمجھتی ہے پاکستان کا آپریشن غضب للحق عوام کے تحفظ کےلیے ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان رجیم غیر قانونی و غیر نمائندہ حکومت اور دہشتگردوں کی پشت پناہ ہے، عطا اللّٰہ تارڑ
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا، تمام53 مقامات پر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک، جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔














