آپریشن غضب للحق: پاکستانی فورسز نے طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک اور 400 زخمی کیے، ہمارے 12 سپوت شہید ہوئے، ڈی جی آئی ایس پی آر

جمعہ 27 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک افغان سرحدی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اب تک 274 طالبان اہلکار ماردیے ہیں اور ہمارے 12 سپوت شہید ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

جمعے کی سہ پہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فورسز نے آپریشن غضب للحق کے دوران طالبان رجیم کی 73 پوسٹس تباہ کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز نے طالبان کے صرف عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جبکہ ان کا ایک بھی عام شہری کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا ہے کہ 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاکستانی افواج نے سرحد کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے اس کارروائی کو جواز بنا کر بعد ازاں نام نہاد ایکشن شروع کیا۔

طالبان رجیم کے حملے جو پسپا کریے گئے

انہوں نے بتایا کہ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان سرحد پر 15 مختلف سیکٹرز میں مجموعی طور پر 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی تاہم پاکستانی افواج نے تمام حملوں کو کامیابی سے پسپا کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کے عمل میں سہولت کاری کر رہے ہیں، چینی وزارت خارجہ

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ایسا بھرپور اور مؤثر جواب دیا گیا جسے دنیا نے بھی دیکھا اور تمام 53 مقامات پر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔

غضب للحق کے دوران 274 طالبان رجیم اہلکار ہلاک کردیے گئے

انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن ’غضب للحق‘ کے دوران 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔

18 چوکیاں ہمارے قبضے میں

ترجمان پاک فوج کے مطابق طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی جبکہ 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں آ چکی ہیں۔

اس کے علاوہ دشمن کے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوجی کشیدگی، مستقبل کا منظرنامہ اور دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے

انہوں نے کہا اب پاکستان میں کسی بھی جگہ دہشتگردی ہوئی تو دہشتگرد اور ان کے پشیبانوں کے خلاف کارروائی ہوگی خواہ وہ جہاں بھی ہوں۔

پاک فوج کے 12 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ جاری آپریشن کے دوران اب تک پاک فوج کے 12 جوان مادرِ وطن پر قربان ہو کر شہادت کا رتبہ پا چکے ہیں جبکہ 27 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاک فوج کا ایک جوان لاپتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول کابل، پکتیا اور قندھار میں موجود اہداف کو انتہائی درستگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ہٹ کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور اسلحہ ڈپوؤں کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ شدت پسند اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے: روس کا افغانستان اور پاکستان سے جھڑپیں روکنے کا مطالبہ، ثالثی کی پیشکش

انہوں نے مزید بتایا کہ پاک فضائیہ نے کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، اور رات کے وقت کابل کی فضاؤں میں ہونے والی کارروائی کے مناظر دنیا نے دیکھے۔ اسی طرح قندھار میں بھی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو کامیابی سے تباہ کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹاک مارکیٹ ایک مرتبہ پھر مندی کا شکار، انڈیکس میں 1700 سے زائد پوائنٹس کی کمی

امریکا ایران مذاکرات، اسلام آباد میں ہونے والا تبلیغی جماعت کا اجتماع مؤخر

پولیو مہم میں کتنے بچوں کو ویکسین نہیں لگ سکی، وجوہات کیا تھیں؟

حالیہ کارکردگی پر ٹیم میں میری جگہ نہیں بنتی، محمد رضوان کا اعتراف

پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم ‘او ٹی ایس’ کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا مطالبہ

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟