آج کل کے دور میں رشتوں کے ٹوٹنے کی ایک بڑی اور خاموش وجہ بات چیت کا فقدان اور ان کہی رنجشیں ہیں۔ جب ہم جذبات کو زبان دینے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، تو یہ خاموشی وقت کے ساتھ ساتھ ایک ناقابلِ عبور دیوار بن جاتی ہے۔
اکثر رشتے کسی بڑے جھگڑے سے نہیں، بلکہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے دم توڑ دیتے ہیں جو کبھی کہی نہیں گئیں۔ قرآنِ کریم کا حکم معروف (بھلے طریقے) سے زندگی گزارنا ہمیں صرف ساتھ رہنے کا نہیں بلکہ دل سے جڑے رہنے کا سبق دیتا ہے۔
تحقیق بھی ثابت کرتی ہے کہ دبائے ہوئے جذبات تلخی بن جاتے ہیں۔ لہٰذا ملامت اور قصور وار ٹھہرانے کے بجائے ہر ہفتے کچھ وقت ایک دوسرے کے لیے نکالیں جہاں صرف حالِ دل سنا جائے اور میں کے بجائے ہم کی بات ہو۔
یاد رکھیں کہ شکوہ کرکے پچھتا لینے سے بہتر ہے کہ انسان خاموش رہ کر رشتہ کھو دے، ایک نرم جملہ اور سچی بات پوری کہانی بدل سکتی ہے۔














