اسلامی تعاون تنظیم نے ایران کی جانب سے سلطنت عمان کی دقم بندرگاہ اور عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر مبینہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کارروائیوں کو عمان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں بڑھتے تنازعات کے درمیان آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز کیوں؟
بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا بین الاقوامی قانون اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جو خطے میں خطرناک کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ نے سلطنت عمان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمان نے ایران اور امریکا کے درمیان بحران کے پرامن حل کے لیے اہم اور قابلِ قدر ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران نے امریکا سے مذاکرات سے انکار کردیا
او آئی سی نے عمان کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
تنظیم نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تعمیری مذاکرات کو فروغ دیں۔













