سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کوٹہ سسٹم کو غیر شرعی قرار دینے کے خلاف اپیل کی سماعت متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ماہ تک ملتوی کردی۔
جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی 5 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا کوٹہ سسٹم اسلام کے اصولوں کے مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 1992 کے زبانی معاہدے پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دیدیا
جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ آرٹیکل 27 میں کوٹہ سسٹم کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور اس حوالے سے قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا گیا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کوٹہ سسٹم 40 سال کے دورانیے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔
جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کوٹہ سسٹم کے دورانیے کو بڑھانے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مقدمے سے بریت ملازمت پر بحالی کا جواز نہیں، سپریم کورٹ میں پولیس اہلکار کی بحالی کی درخواست مسترد
مزید برآں، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ کوٹہ سسٹم صوبوں کی آبادی کے تناسب سے موجود ہے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تصدیق کی کہ جی ہاں، ہر صوبے کی آبادی کے تناسب کے مطابق اس پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جن صوبوں کی آبادی کم ہے انہیں بڑھایا جائے۔
ان ریمارکس کے ساتھ ہی عدالت نے سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔














