امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیشگی کسی بھی آپشن کو خارج نہیں کریں گے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی کے صدور کی طرح پہلے ہی یہ اعلان نہیں کریں گے کہ زمینی فوج استعمال نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: حزب اللہ کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ حسین مقلد کو شہید کردیا، اسرائیل کا دعویٰ
ان کے بقول حالات ایسے بھی ہو سکتے ہیں جہاں اس کی ضرورت پیش نہ آئے، تاہم یہ امکان بھی موجود ہے کہ مستقبل میں یہ قدم ناگزیر بن جائے۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکا کے اہداف واضح کیے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے میزائل پروگرام کو غیر مؤثر بنانا، اس کی بحری قوت کو نقصان پہنچانا اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کو اپنی سرحدوں سے باہر مسلح گروہوں کو اسلحہ، مالی وسائل اور تربیت فراہم کرنے سے باز رکھنا بھی امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔
صدر کے مطابق ایران کا میزائل پروگرام دراصل جوہری صلاحیت کے تحفظ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایران کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں تک رسائی مل گئی تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ امریکا کے لیے بھی سنگین خطرہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اس پیش رفت کو روکنے کے لیے پرعزم تھا اور عالمی برادری کی حمایت بھی حاصل تھی۔
ٹرمپ نے مزید کہاکہ واشنگٹن نے پہلے سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن مذاکرات بارہا ناکام رہے۔ ان کے بقول اسی پس منظر میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ یہ اقدام خطرات کے خاتمے کا آخری موقع سمجھا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ ایران کے 10بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ اس کی میزائل تیاری کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ صدر کے مطابق جاری عسکری آپریشن منصوبے سے تیز رفتار ہے، ابتدائی تخمینے کے مطابق یہ کارروائی چار سے پانچ ہفتوں پر محیط ہونی تھی، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے طول دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف فوجی آپریشن غیرمعمولی تیزی سے مکمل ہوا، اب معاہدہ ممکن نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے سے 2018 میں علیحدگی کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ معاہدہ انتہائی ناقص اور خطرناک تھا اور اگر اسے برقرار رکھا جاتا تو ایران چند برس قبل ہی جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا تھا۔ انہوں نے اس معاہدے کے خاتمے کو اپنی حکومت کا اہم اقدام قرار دیا۔














