ایران کی اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جوابی عسکری آپریشن ’وعدہ صادق 4‘ کے پہلے 2 دنوں میں 650 سے زائد امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ میں شائع شدہ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری حملوں کے جواب میں کی گئیں، جن میں خطے بھر میں امریکی اڈوں اور جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر پر حملوں کا دعویٰ
آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نیانی کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کو متعدد بار نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق ایک حملے میں 160 امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے جب ایک اہم امریکی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
اسی طرح امریکی بحریہ کے ایم ایس ٹی (MST) جنگی معاونت جہاز کو بھی ایرانی بحری میزائلوں سے شدید نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن پر کروز میزائل حملے کا دعویٰ
آئی آر جی سی کے مطابق ایرانی بحری افواج نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن پر 4 کروز میزائل داغے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جہاز ایران کے جنوب مشرقی شہر چاہ بہار کے ساحل سے تقریباً 250 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق حملوں کے بعد یہ طیارہ بردار جہاز ’جنوب مشرقی بحرِ ہند کی جانب پسپا ہو گیا‘۔
خلیج میں امریکی تنصیبات کو بھاری نقصان کا دعویٰ
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکی فوجی تنصیبات کو “بھاری نقصانات” پہنچائے گئے ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل نعینی نے کہا کہ امریکا کے لیے ان نقصانات کو تسلیم کرنا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن ایرانی انٹیلی جنس اور میدانِ جنگ کی رپورٹس ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتی ہیں۔
جنگ کا نیا مرحلہ؟
ایران کے مطابق ’وعدہ صادق 4‘ جاری تنازع میں ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ خلیجی خطے میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ تاہم فی الحال امریکی حکام کی جانب سے ان مخصوص دعوؤں پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔














