نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کی ٹریولنگ ٹکٹ ایکزامنر اور ٹکٹ کلیکٹر مونی نین سوشل میڈیا پر اپنی ریلز کے باعث شہرت کی زد میں آ گئی ہیں۔ انہوں نے کھیلوں کے کوٹے کے تحت ریلوے میں ملازمت حاصل کی اور ڈیوٹی کے دوران اپنے کام کے مناظر اور روزمرہ معمولات دکھانے والی ریلز بناتی رہیں جن میں ٹرینڈنگ آڈیو کلپس اور ٹرین آپریشن کے مناظر شامل تھے۔
کئی لوگوں نے ان کے مواد کو پسند کیا، تاہم کچھ صارفین نے ریلوے اسٹیشن پر ڈیوٹی کے دوران ریلز بنانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ آن لائن بحث میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران تفریحی مواد تخلیق کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
She is Moni Nain, a TTE cum TC posted at New Delhi Railway Station from sports quota, but seems more active on reels than on duty.⁰Busy entertaining the internet and acting like a big influencer with “lakhs of followers” while passengers watch the show in real time…
Here’s her… pic.twitter.com/UngJgsV46m
— Jharkhand Rail Users (@JharkhandRail) February 21, 2026
دہلی ڈویژن کے ریلوے مینیجر نے نوٹس لیتے ہوئے منی نین کو ہدایت دی کہ وہ کام سے متعلق تمام ریلز حذف کریں اور مستقبل میں ڈیوٹی کے دوران ایسی سرگرمیوں سے باز رہیں۔ ایک آفیشل بیان میں کہا گیا کہ ’ملازمہ کو سختی سے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ڈیوٹی کے دوران کام کی جگہ پر ریلز پوسٹ نہ کریں۔ ملازمہ کو تمام ایسی ریلز حذف کرنے کی ہدایت دی گئی ہے‘۔
بعد ازاں مونی نین نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ذاتی اور لائف اسٹائل مواد کی جانب منتقل کر دیا۔ ان کی حالیہ پوسٹس میں سفر کے مناظر اور باہر کی سرگرمیوں کی جھلکیاں شامل ہیں۔ ان کے انسٹاگرام پر 3.6 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔













