وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی نمائندوں سے ملاقات میں ایک ہی مطالبہ رکھا گیا کہ اگر ترجیحات تبدیل نہ کی گئیں تو حالات مزید خراب ہوں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کے پی سیف سٹیز پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا، جس کے تحت پشاور میں جدید شہری سیکیورٹی نظام کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
مزید پڑھیں: ‘چیف جسٹس نے سلام کا جواب تک نہیں دیا،’ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی اسلام آباد ہائیکورٹ آمد
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ 2 ارب 23 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا سیف سٹی منصوبہ جدید اور مربوط سکیورٹی نظام فراہم کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت 133 اہم مقامات پر 711 جدید کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں بھی یہ نظام تکمیل کے مراحل میں ہے اور اسے بہت جلد فعال بنا دیا جائے گا۔ مزید برآں صوبے کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز اور ضم اضلاع میں سیف سٹی منصوبے جون کے بعد شروع کیے جائیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ سیکیورٹی صورتحال دن بہ دن بگڑ رہی ہے اور بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوا میں بڑی کارروائی کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنایا۔
انہوں نے کہاکہ بورڈ آف پیس، ایران، اسرائیل اور امریکا سے متعلق فیصلوں میں پارلیمان اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اہم فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں اور قوم کو آگاہ نہیں کیا جاتا۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ قرآن میں واضح ہے کہ یہود و نصارا تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہاکہ ہم بارہا مطالبہ کرتے رہے کہ ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دے کر افغانستان بھیجا جائے، تاہم افسوس کہ جرگہ اور مذاکرات پر عملدرآمد نہیں ہوا اور حالات بگڑ گئے۔
سہیل آفریدی نے کہاکہ ہم ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے، ہیں اور رہیں گے۔ پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر اور پورے امت مسلمہ کے رہنما کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: علی امین گنڈاپور سیکیورٹی واپس لینے پر سہیل آفریدی حکومت پر برس پڑے
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ذریعے شہری نگرانی، ایمرجنسی رسپانس اور ٹریفک مینجمنٹ کو مربوط بنایا جائے گا۔ بی آر ٹی، ریڈ زون اور حساس مقامات پر نصب کیمروں کو نئے سسٹم کے ساتھ انٹگریٹ کیا جائے گا۔
بریفنگ کے مطابق اسمارٹ سرویلنس وہیکلز، ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹم اور 68 پینک بٹن شہری تحفظ کو مزید مؤثر بنائیں گے۔














