وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں۔
ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کا 28 دن کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ خام تیل آئندہ 10 روز اور ایل پی جی 15 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دستیاب ہے۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، عوام کیا کہتے ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ قطر سے ایل این جی کی درآمد تعطل کا شکار ہے تاہم مقامی گیس کے ذریعے طلب پوری کر لی جائے گی اور متبادل توانائی ذرائع پر بھی غور جاری ہے۔
یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی، جو چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، جہاں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے اختتام تک پیٹرولیم ذخائر دستیاب ہیں، سپلائی کو منظم رکھا جائے گا اور توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ اگر علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ آئی ایم ایف مشن کی روانگی کو انہوں نے ادارہ جاتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ فنڈ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کی ضرورت نہیں، بہتر نظم و نسق کے ذریعے صورتحال کو سنبھالا جائے گا۔














