پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں کم جونگ ان کی میمز وائرل ہو گئی ہیں، جن میں انہیں ایران کی حمایت میں جنگ میں شامل ہونے کی وجہ تلاش کرتے دکھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس، چین اور شمالی کوریا کی مذمت پر مشتمل جی 7 اجلاس کا اعلامیہ جاری
سوشل میڈیا صارفین نے ان میمز کی بنیاد پر غلط فہمی پیدا کردی ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما نے ایران پر حملوں کے سلسلے میں کوئی باضابطہ بیان جاری کیا، حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔
بھگوان کا دیا ہوا سب کچھ ہے، پیسہ عزت اور ایٹمی پاور،
بس دشمنوں کی کمی ہے۔۔۔😎کِم جونگ اُن pic.twitter.com/ZpmfmWLIJZ
— Wajiha Hilal (@Wajihahilal1) March 3, 2026
ماہرین اور سابق حکومتی اہلکاروں نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے فوجی حملے ایران پر شمالی کوریا کی جوہری ہتھیاروں کی کوششوں کو تقویت دے سکتے ہیں۔
Kim Jong Un be like: Something must be done 👍 #IranIsraelWar pic.twitter.com/ear0l5E6bx
— World Pulse X (@WorldPulseX) March 4, 2026
اس سے عالمی دباؤ کے باوجود کم جونگ ان اپنی دفاعی پالیسی پر غور کرسکتے ہیں اور مستقبل میں ممکنہ مذاکرات پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
ازطرف
کم جونگ ان
رہبر معظم الشمالی الکوریا pic.twitter.com/2yBTtSatPU— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) March 3, 2026
واضح رہے کہ 2018 اور 2019 میں کم جونگ ان اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلز کے معاملے پر مذاکرات ہوئے تھے، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
Kim Jong: Jao yaar kisi Israeli missile ka rukh apne mulk ki taraf kro ta kay humko bhi Israel ko pelne ka moqa miley…😅 #IranIsraelWar pic.twitter.com/Hbr15BJgcl
— Asim Gorsi 🇵🇰 (@asimgorsi10) March 4, 2026
ایران پر حملے کے بعد اس پر دوبارہ غور کرنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
When Your Local Dictator Is Somehow A Girl Dad 😭 pic.twitter.com/2MNYwrq9ol
— SURAJ (@SURAJ_624) March 4, 2026














