پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی علی قاسم گیلانی نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں پی ٹی اے کے موبائل پر ٹیکس کی کمی سے متعلق پارلیمنٹ کی خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین ایف بی آر نے کہا تھا کہ ان کو 3 ماہ کا وقت درکار ہے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں کہ کس طرح موبائل پر پی ٹی اے ٹیکس کو کم کیا جا سکتا ہے، اب مارچ آ گیا ہے اور انہوں نے بتانا ہے کہ اس حوالے سے کیا فیصلہ کیا گیا۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علی قاسم گیلانی نے کہاکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین نوید قمر کو بھی میں نے آگاہ کیا ہے کہ وہ موبائل ٹیکسز کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین پی ٹی اے اور وزارت خزانہ سے رپورٹ طلب کریں، امید ہے کہ پی ٹی اے کے زیادہ ٹیکسز کا معاملہ حل ہوگا، پی ٹی اے نے حال ہی میں ٹیکس کم کیے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں کسٹمز ویلیو ٹیکس میں کمی کے بعد موبائل فونز کی قیمتوں میں کتنی کمی ہوگی؟
انہوں نے کہاکہ حکومت کو تمام اسمارٹ فونز کو عوام کے لیے قابلِ استطاعت (افورڈیبل) بنانے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کرنا ہوگی، بصورت دیگر ڈیجیٹل پاکستان کا حکومتی ایجنڈا متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں اسمارٹ فون کسی لگژری آئٹم کے بجائے ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے، اس لیے ان پر بھاری ٹیکس عائد رکھنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ان کے مطابق 2019 میں جب مہنگے موبائل فونز خصوصاً آئی فون جیسے ماڈلز پر زیادہ ٹیکس لگایا گیا تھا تو انہیں لگژری آئٹمز سمجھا جاتا تھا، تاہم 2026 تک آتے آتے اسمارٹ فون عام شہری کی ضرورت بن چکا ہے۔
علی قاسم گیلانی نے کہاکہ خزانہ کمیٹی کی تجویز یہ نہیں تھی کہ مخصوص پیکجز یا مخصوص قیمتوں والے فونز کے ٹیکس کو لاک کر دیا جائے یا محض چند کیٹیگریز میں ردوبدل کر دیا جائے، جیسے کہ 2 لاکھ 48 ہزار روپے والے فون کا ٹیکس کم کرکے ڈیڑھ لاکھ یا پونے 2 لاکھ کر دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاملہ اس سے زیادہ جامع نوعیت کا ہے اور اس کے لیے مکمل پالیسی جائزہ درکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ اداروں کی جوائنٹ اسٹڈی کروائی گئی ہے، جس میں تمام موبائل ڈیوائسز کی کسٹم ویلیو کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس جائزے کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ ٹیکس اسٹرکچر کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر نئی حکمت عملی بنائی جا سکے۔
علی قاسم گیلانی نے کہاکہ اس وقت موبائل فونز پر 4 مختلف اقسام کے ٹیکس عائد ہیں، جن میں موبائل لیوی، ریگولیٹری ڈیوٹی، جی ایس ٹی اور ودہولڈنگ ٹیکس شامل ہیں، یہ ٹیکس اسٹرکچر نامناسب ہے اور اس میں کمی لانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ صرف ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ پورے ہاؤس اور کمیٹی کا متفقہ مؤقف ہے کہ اسمارٹ فونز پر ٹیکسوں میں کمی کی جانی چاہیے۔
مزید پڑھیں: موبائل فونز پر ناقابلِ برداشت ٹیکس سے چھٹکارا، 3 دسمبر کو کیا فیصلہ متوقع ہے؟
انہوں نے کہاکہ پی ٹی اے ٹیکسز میں اضافے کی وجہ سے اسمارٹ فونز مہنگے ہوئے، تاہم خود حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اسمارٹ فون اب لگژری نہیں بلکہ ضرورت ہے۔
ان کے مطابق کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے تو اسے اسمارٹ فونز کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا ہوگا۔













