سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب گالے کے علاقے میں ایرانی جہاز پر مبینہ آبدوز حملے کے بعد کم از کم 101 افراد لاپتا، ایک ہلاک اور 78 زخمی ہو گئے۔ سری لنکن بحریہ اور طبی ٹیموں نے فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، تاہم واقعے پر بھارت کی خاموشی اور مبینہ طور پر حساس معلومات امریکا اور اسرائیل کے ساتھ شیئر کرنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
Major embarrassment for India! Even the likes of Arnab Goswami and Gen Bakshi are questioning how the Indian government backstabbed Iran and allowed the US Navy to sink the Iranian Navy's ship right under their nose within the waters of Indian territorial influence. pic.twitter.com/oXN0DRi6gw
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) March 4, 2026
3 مارچ کو سری لنکا کے ساحل کے قریب ایرانی بحری جہاز پر حملے کے بعد جہاز ڈوب گیا۔ سری لنکن بحریہ نے فوراً سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا اور اب تک درجنوں افراد کو بچا لیا گیا، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق 101 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
Just in: US Secy of War Hegseth confirms that US submarines torpedoed Iranian Ship Dena in Indian Ocean.
IRIS Dena had been invited by the Indian Navy to take part in the IFR/ Milan exercises and was returning home when it was hit.
Awaiting MEA response.…— Suhasini Haidar (@suhasinih) March 4, 2026
تاہم خطے کے مبصرین اور ماہرین نے بھارت کے رویے پر شدید تنقید کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے واقعے کی حساس معلومات امریکا اور اسرائیل کو فراہم کیں، جس سے امدادی کارروائیوں اور بین الاقوامی بحری سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
Sailors from the Iranian Navy's IRIS Dena were marching in Vishakapatnam during a naval exercise a couple of weeks ago. Then India pulled a treacherous act and backstabbed them by helping the US Navy submarine destroy and sink this ship near Sri Lanka killing 100 sailors today. pic.twitter.com/8SUtzMeNjX
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) March 4, 2026
ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں اعتماد اور تعاون کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، اور اس سے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔














