خیبرپختونخواہ کے ضلع بنوں کے تحصیل ڈومیل کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ افراد ایک 15 سالہ لڑکی پر تشدد کر رہے ہیں۔ اس واقعے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور صوبائی حکومت پر سنگین تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان کے کن علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ لڑکی کو بلاوجہ مارا پیٹا جا رہا ہے، مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آور ٹی ٹی پی سے وابستہ ہیں۔ صارفین نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا، جیسے کہ سمیعہ بلوچ نے لکھا کہ ’یا اللہ رحم، یہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے‘۔
Such a huge failure of KP Govt, if such small children cannot be protected from atrocities why the hell are you in Govt @SohailAfridiISF ? Shame on authorities https://t.co/mM3qk7Kk0j
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) March 4, 2026
فواد چوہدری نے کہا کہ اس طرح کے مظالم ناقابل قبول ہیں اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے صوبائی انتظامیہ پر سوال اٹھایا کہ اگر چھوٹے بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتے تو پھر کس لیے اقتدار میں ہیں۔
یاد رہے کہ افغان طالبان سے متاثر تحریک طالبان پاکستان کے لوگ اپنی تنگ نظری اور اسلام کے نادرست تصور کے ساتھ معاشرے کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ بچوں، عورتوں اور معصوم شہریوں کے خلاف یہ تشدد معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے اور ملک میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی ایم، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا کا استعمال کیا، کتاب میں انکشافات
یہ واقعہ نہ صرف خیبرپختونخواہ میں انتظامیہ کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ملک بھر میں قانون اور انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان بھی لگاتا ہے۔ سماجیات کے ماہرین کے مطابق ایسے واقعات سے لڑکیوں اور بچوں کی بنیادی حفاظت کے حقوق متاثر ہوتے ہیں، اور معاشرتی توازن کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔













