ایران میں سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ مؤخر کیے جانے کے فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس تاخیر کے پیچھے متعدد اہم وجوہات کارفرما ہوسکتی ہیں۔
سب سے بڑی وجہ ملک میں جاری حملوں اور کشیدہ صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کو مسلسل حملوں کے خدشات لاحق ہیں اور حکام کو اندیشہ ہے کہ کسی بھی بڑے عوامی اجتماع کو امریکا یا اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی عوام میں بھی اس حوالے سے خوف پایا جاتا ہے، جس کے باعث کسی بڑی تقریب کا انعقاد خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل نے آیت اللہ خامنہ ای کی ریکی کیسے کی؟ برطانوی اخبار تفصیلات سامنے لے آیا
ایرانی قیادت اس وقت نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل سے گزر رہی ہے۔ آئینی طور پر اس کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، تاہم فوری تقرری کا امکان ظاہر نہیں کیا جا رہا۔
ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری مجلس خبرگان رہبری کے پاس ہوتی ہے۔ اس ادارے کے ایک رکن نے واضح کیا ہے کہ اہم مشاورت کے لیے وقت درکار ہے۔
سپریم لیڈر کا عہدہ ایران میں انتہائی بااختیار سمجھا جاتا ہے۔ اس منصب پر فائز شخصیت کو ملکی اور خارجہ پالیسی سمیت اہم ریاستی معاملات پر حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے۔
اسی لیے قیادت اس تقرری میں جلد بازی کے بجائے مکمل غور و فکر سے فیصلہ کرنا چاہتی ہے تاکہ ایک موزوں اور متفقہ شخصیت کا انتخاب ممکن ہوسکے۔
مزید پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای: مزاحمت کی علامت، دفاعی حکمتِ عملی کے معمار اور امام خمینی کے بعد ایران کی کلیدی قیادت
ایران کا آئین تقاضا کرتا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب جلد از جلد کیا جائے۔ تاہم ملک میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث یہ واضح نہیں کہ یہ عمل کتنے عرصے میں مکمل ہوگا۔
موجودہ حالات میں ایرانی قیادت احتیاط اور تدبر کے ساتھ آگے بڑھنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔













