برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کیا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے کئی سالوں تک ان کیمروں کی ویڈیوز خفیہ طور پر تل ابیب منتقل کیں تاکہ لیڈر کے معمولات اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق پاستور اسٹریٹ پر محافظوں اور ڈرائیوروں کی نقل و حرکت مستقل نگرانی میں رہی، جبکہ مخصوص کیمروں کے ذریعے کمپاؤنڈ کے اندر معمولات اور پارکنگ پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی۔ الگورتھمز کا استعمال کرکے سکیورٹی اہلکاروں کے روزمرہ معمولات، گاڑی کھڑی کرنے کی جگہیں اور کام کے راستوں کا پتہ لگایا گیا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اسرائیل اور امریکی سی آئی اے کو خامنہ ای کی میٹنگ کے وقت اور شرکا کی معلومات پہلے سے حاصل تھیں۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حملے کے وقت موبائل ٹاورز جزوی طور پر غیر فعال ہو گئے، جس کے باعث حفاظتی عملہ ممکنہ وارننگ سے محروم رہا۔
مزید پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای: مزاحمت کی علامت، دفاعی حکمتِ عملی کے معمار اور امام خمینی کے بعد ایران کی کلیدی قیادت
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی کارروائی میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے ہیں، جس کے بعد جنگ میں شدت آگئی ہے، اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں بھی کی جارہی ہیں۔














