برطانیہ میں لیبر پارٹی سے وابستہ ایک سابق مشیر سمیت 3 افراد کو چین کے لیے جاسوسی کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق لیبر رکنِ پارلیمنٹ جونی ریڈ کے شوہر ڈیوڈ ٹیلرکو لندن میں انسدادِ دہشت گردی پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ چین تعلقات: اسٹارمر کی پیش قدمی، ٹرمپ کی سخت وارننگ
یہ گرفتاری چین سے متعلق قومی سلامتی کے جرائم کی وسیع تحقیقات کا حصہ بتائی جا رہی ہے، ان پر شبہ ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی معاونت کی۔
پولیس نے اس کے علاوہ ویلز کے علاقے پاوِس سے 68 سالہ اور پونٹیکلِن سے 43 سالہ ایک اور شخص کو بھی گرفتار کیا ہے۔
Scottish Labour MP Joani Reid has said, "I have never seen anything to make me suspect my husband has broken any law", after he was arrested on suspicion of spying for Chinahttps://t.co/Q2tnOibF6o
— RTÉ News (@rtenews) March 4, 2026
حکام نے ان دونوں افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم اطلاعات کے مطابق وہ بھی لیبر پارٹی کے سابق مشیر رہ چکے ہیں۔
ڈیوڈ ٹیلر ماضی میں لیبر رہنما لارڈ پیٹر ہین کے خصوصی مشیر رہ چکے ہیں، جب ہین ویلز کے سیکریٹری آف اسٹیٹ تھے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ اور چین کے تعلقات میں نئی شروعات، کیئر اسٹارمر کی معاشی تعاون پر توجہ
بعد ازاں ٹیلر ایک لابنگ کمپنی ارتھ کاٹ کے ساتھ وابستہ رہے، وہ لیبر پارٹی کے حلقوں میں وسیع روابط رکھتے ہیں۔
ان کی کمپنی کو لیبر کے کاروباری گروپ ایس ایم ای فور لیبر کے حامیوں میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔
Partner of sitting Labour MP among three arrested on suspicion of spying for China – The Guardian What a surprise said no one ever! https://t.co/UblfdjZQoP
— Deirdre Walsh (@magicdmw) March 4, 2026
ٹیلر اس وقت تھنک ٹینک ایشیا ہاؤس میں پالیسی اور پروگرامز کے ڈائریکٹر بھی ہیں، جو وسطی ایشیا سے متعلق آل پارٹی پارلیمانی گروپ کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔
اپنے شوہر کی گرفتاری کے بعد ایسٹ کِل برائیڈ اور اسٹراؤہیوَن سے رکنِ پارلیمنٹ اور ہوم افیئرز کمیٹی کی رکن جونی ریڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں کبھی کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی جس سے انہیں شبہ ہو کہ ان کے شوہر نے کوئی قانون توڑا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کی ٹریڈ وار نے برطانیہ اور چین کو قریب کردیا؟
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں اور نہ ہی وہ یا ان کے بچے اس تحقیقات کا حصہ ہیں، اس لیے میڈیا کو ان کے خاندان کی نجی زندگی کا احترام کرنا چاہیے۔
ریڈ کا کہنا تھا کہ وہ کبھی چین نہیں گئیں اور نہ ہی پارلیمنٹ میں چین سے متعلق کوئی سوال اٹھایا یا تقریر کی ہے۔
Labour MP’s partner one of three held on suspicion of spying for China https://t.co/TqQr8JbreI
— Benedict Rogers 羅傑斯 (@benedictrogers) March 4, 2026
ان کے مطابق بطور رکنِ پارلیمنٹ انہوں نے کبھی کسی چینی کمپنی، سفارت کار یا سرکاری اہلکار سے ملاقات بھی نہیں کی۔
یہ گرفتاریاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب 6 ماہ قبل پروسیکیوشن سروس نے چین کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار 2 افراد کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں: برطانیہ نے انتخابی عمل پر سائبر حملوں کا الزام چین پر لگا دیا
ان میں سے ایک شخص 2 کنزرویٹو ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمانی معاون کے طور پر کام کر چکا تھا۔
ادھر وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کو چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں پر سیاسی دباؤ کا سامنا بھی ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ اور چین نے طویل المدتی شراکت داری پر اتفاق کرلیا، ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیاں بے اثر
پارلیمنٹ کے اسپیکر لنڈسے ہوئل نے واضح کیا کہ گرفتار افراد کے پاس ویسٹ منسٹر پارلیمنٹ تک رسائی کے لیے کوئی پارلیمانی پاس موجود نہیں تھا۔
پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں ایک پیشگی کارروائی کا حصہ ہیں اور فی الحال عوام کے لیے کسی فوری خطرے کی اطلاعات نہیں ہیں۔
تاہم سیکیورٹی ادارے برطانوی جمہوریت میں بیرونی مداخلت اور پالیسی سازی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوششوں کی مسلسل تحقیقات کر رہے ہیں۔














