پرتشدد مظاہروں کے بعد اسکردو کی معیشت اور ٹیکنالوجی شعبہ متاثر

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’اسکردو میں صرف ایک جدید پارک کو آگ نہیں لگائی گئی بلکہ اسکردو کے مستقبل کو جلایا گیا ہے اور علاقے کو چالیس پینتالیس سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔‘

یہ کہنا تھا گلگت بلتستان کے علاقے اسکردو سے تعلق رکھنے والے عارف ربانی کا، جو ایک آئی ٹی کمپنی کے مالک ہیں اور گلگت بلتستان آئی ٹی ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت، پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے

انہوں نے بتایا کہ اسکردو اور گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف ہونے والے احتجاج اور مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ سے گلگت شہر اور اسکردو میں ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔

’اس نوعیت کے نقصانات کے اثرات مستقبل میں بھی پورے گلگت بلتستان کو بھگتنا پڑیں گے۔‘

وی نیوز سے فون پر بات کرتے ہوئے عارف ربانی اسکردو سے اسلام آباد روانگی کی تیاری بھی کر رہے تھے تاکہ انترنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث وہ دارالحکومت سے ایک آن لائن میٹنگ میں شرکت یقینی بنا سکیں، اس سے قبل آئی ٹی پارک کی بدولت وہ باآسانی آن لائن میٹنگ اور کام کرتے تھے۔

گلگت بلتستان میں پرتشدد مظاہرے

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف اتوار کو پاکستان میں مظاہرے شروع ہوئے، گلگت بلتستان کے گلگت شہر اور اسکردو میں بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے اور احتجاج کیا۔

احتجاج کے دوران اچانک مظاہرین مشتعل ہوگئے اور چند سرکاری املاک اور بین الاقوامی فلاحی اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ اسکردو میں سب سے زیادہ نقصان ہوا، جہاں حکام کے مطابق اقوام متحدہ اور آغا خان فاؤنڈیشن کے دفاتر کو نذرِ آتش کیا گیا۔

مشتعل مظاہرین یہیں نہیں رکے بلکہ اسکردو کی پسماندگی ختم کرنے اور دنیا سے رابطہ قائم کرنے والے جدید آئی ٹی پارک کو بھی آگ لگا دی گئی اور اس کے علاوہ ایک اسکول کو بھی نذر آتش کیا گیا۔

مظاہروں کو روکنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گلگت بلتستان حکومت نے کرفیو نافذ کیا، ترجمان حکومتِ گلگت بلتستان نے گلگت شہر اور اسکردو میں احتجاج کے دوران ہونے والے نقصانات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ توڑ پھوڑ اور پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

’اسکردو کو 40 سال پیچھے دھکیل دیا گیا‘

پرتشدد مظاہروں کے بعد گلگت اور اسکردو میں زندگی معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے، تاہم توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ پر مقامی افراد شدید غمزدہ ہیں۔

گلگت میں ایک بین الاقوامی فلاحی ادارے کے سربراہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مظاہرین نے ان کے دفتر کو بھی نذرِ آتش کیا۔

’یہ صرف ایک دفتر نہیں جلایا گیا بلکہ یہاں کے نوجوانوں کے مستقبل کو آگ لگائی گئی ہے اور اس علاقے کو دوبارہ پسماندگی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔‘

مزید پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف احتجاج، گلگت بلتستان میں کل تعلیمی ادارے بند رہیں گے

انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ چالیس پینتالیس سال سے گلگت بلتستان میں فعال ہے اور علاقے کی ترقی اور مقامی افراد کی خودمختاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

’اگر آپ چالیس سال پہلے کا اسکردو اور آج کا اسکردو دیکھیں تو زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا، اور اس میں ہمارا نمایاں کردار ہے، یہاں حکومت نے بھی اتنا کام نہیں کیا جتنا ہم نے کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ چالیس سال پہلے اس علاقے میں مواقع کم تھے، جبکہ آج ہر گھر کی خاتون نہ صرف خودمختار ہے بلکہ اپنا کام کر رہی ہے۔

ان کے مطابق ان کا ادارہ پانی کی فراہمی، موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ، معاشی خودمختاری، تعلیم، ہنر سکھانے اور کاروبار کے لیے مالی معاونت فراہم کر رہا تھا۔ ’40 سال سے جاری ترقی کو ایک دن میں روک دیا گیا اور علاقے کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ سینکڑوں خواتین کو تربیت کے بعد کاروبار کے لیے مالی معاونت دی جا رہی تھی، مگر اب فی الحال سب کچھ رک گیا ہے۔ ’دوبارہ آغاز کب اور کہاں سے ہوگا، کوئی نہیں جانتا۔‘

آئی ٹی پارک کو نہیں، روشن مستقبل کو آگ لگائی گئی

عارف ربانی کا تعلق اسکردو سے ہے اور ان کی ایک آئی ٹی کمپنی ہے، تقریباً 2 سال قبل انہوں نے اپنا کاروبار اسلام آباد سے اسکردو منتقل کیا تھا، جب شہر میں ایک جدید آئی ٹی پارک قائم کیا گیا۔

ان کے مطابق اس پارک کے قیام سے نوجوانوں کو بہتر مستقبل بنانے کا موقع ملا، 2 سال کے دوران ملکی سطح کی بڑی کمپنیاں بھی اسکردو منتقل ہوئیں، اور اس وقت 38 بڑی کمپنیاں وہاں سے کام کر رہی تھیں۔ ’ان 38 کمپنیوں سے 200 سے زائد نوجوان براہِ راست جبکہ ہزاروں بالواسطہ طور پر وابستہ تھے۔‘

عارف ربانی نے بتایا کہ پارک پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے نتیجے میں ان کا تمام ڈیٹا ضائع ہو گیا۔ ’میں نے اپنا کامیاب کاروبار اسکردو کے فائدے کے لیے یہاں منتقل کیا تھا، لیکن آج میں دوبارہ صفر پر آ گیا ہوں۔‘

مزید پڑھیں:دفاعی تنصیبات پر کامیاب ایرانی حملوں نے امریکی سیکیورٹی پر نئی بحث چھیڑ دی

انہوں نے کہا کہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ’میں اس وقت اسلام آباد روانگی کی تیاری کر رہا ہوں، وہاں جا کر دوبارہ کام کا آغاز کرنے کی کوشش کروں گا۔‘

ان کے مطابق اسکردو آئی ٹی پارک سے 38 کمپنیاں کام کر رہی تھیں جو اب بند ہو چکی ہیں، اسکردو میں انٹرنیٹ اور بجلی کا بڑا مسئلہ ہے، تاہم آئی ٹی پارک میں 3 شفٹوں میں کام ہوتا تھا اور وہاں بجلی اور انٹرنیٹ کا مسئلہ نہیں تھا۔

’بظاہر ایک پارک کو آگ لگائی گئی، لیکن درحقیقت یہاں کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کو جلایا گیا ہے۔‘

جب تحفظ نہیں ہوگا تو کمپنیاں کیوں آئیں گی؟

عارف ربانی کے مطابق حالیہ پرتشدد مظاہروں کے بعد کاروباری افراد عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول کراچی، اسلام آباد اور لاہور سمیت دیگر شہروں سے لوگ پرامن ماحول کی وجہ سے اسکردو آ رہے تھے، مگر حالیہ واقعات نے انہیں مایوس کیا ہے۔

’نقصان کے باوجود کمپنیاں شاید منتقل ہو جائیں، مگر اصل نقصان مقامی لوگوں کا ہوا ہے، کئی برسوں کے بعد قائم کیے گئے اس پارک کو چند گھنٹوں میں تباہ کر دیا گیا۔‘

اتوار کو اسکردو میں پرتشدد مظاہرے کیسے شروع ہوئے؟

پولیس اور مقامی افراد کے مطابق اتوار کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح گلگت بلتستان کے ان علاقوں میں بھی مظاہرے ہوئے جہاں اہل تشیع کی آبادی زیادہ ہے، اسکردو اور گلگت میں لوگ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف احتجاج کے لیے نکلے۔

مظاہرے کی کوریج کے لیے موقع پر موجود اسکردو کے نوجوان صحافی ذیشان مہدی نے بتایا کہ بڑی تعداد میں لوگ یادگار چوک پر جمع ہوئے اور پرامن احتجاج کر رہے تھے۔

ان کے مطابق جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات یادگار سے کچھ فاصلے پر پیش آئے، جہاں چند نوجوان اچانک مشتعل ہو گئے۔ مظاہرے کے قائدین انہیں روکنے کی کوشش کرتے رہے، مگر انہوں نے کسی کی نہ سنی۔

مزید پڑھیں: جنگی کشیدگی کے سائے: علما کی عوام سے صبر اور پُرامن احتجاج کی اپیل

ذیشان مہدی کے مطابق مشتعل گروپ نے 2 بین الاقوامی فلاحی اداروں کے دفاتر، ایس کام کے آئی ٹی پارک اور ایک اسکول کو نذرِ آتش کیا، ان کے بقول اسکردو کے عمائدین اور مذہبی رہنما بھی اس واقعے پر شدید پریشان اور افسردہ ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یو این آفس، آئی ٹی پارک، اسکول اور اے کے آر ایس پی آفس کو آگ لگائی گئی تو پولیس کہاں تھی، کتنی گرفتاریاں ہوئیں، کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔

ذیشان مہدی کے مطابق اس واقعے سے پورے گلگت بلتستان اور اسکردو کی بدنامی ہوئی ہے، دوسری جانب اسکردو ایک سیاحتی علاقہ ہے اور سیزن کے آغاز میں ایسا واقعہ سیاحت کو شدید نقصان پہنچائے گا۔

گلگت بلتستان میں حالات اب کیسے ہیں؟

اتوار کو شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد گلگت بلتستان میں حالات اب کنٹرول میں ہیں، ترجمان حکومت گلگت بلتستان شبیر میر کے مطابق سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ کرفیو بدستور نافذ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تعلیمی ادارے بند ہیں اور کرفیو کے خاتمے کے حوالے سے جمعرات کو فیصلہ کیا جائے گا۔ ’حکومت قیامِ امن کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے، اور امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انجری کے بعد واپسی مشکل، نیمار ایک بار پھر برازیل کے اسکواڈ سے باہر

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

سلیم خان کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا، گھر کب جائیں گے؟

نائیجیریا میں خودکش دھماکوں کی لہر، 23 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا