ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف گلگت بلتستان میں پرتشدد مظاہروں کے بعد گلگت بلتستان حکومت نے پیر کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر نے وی نیوز کو بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف مختلف اضلاع میں مظاہرے ہوئے اور بعض مقامات پر مظاہرین مشتعل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:پوپ لیو چہاردہم کا ایران حملوں پر پہلا ردعمل، ہتھیاروں کے بجائے مکالمے پر زور
انہوں نے کہا کہ مشتعل مظاہرین کی جانب سے املاک کو نقصان بھی پہنچایا گیا، تاہم اب صورت حال کنٹرول میں ہے اور پورے گلگت بلتستان میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت صورت حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور اضافی پولیس نفری تعینات کر کے سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ شبیر میر کے مطابق، دن بھر مظاہرے ہوئے۔ اسکردو اور گلگت میں مظاہرین مشتعل بھی ہوئے، لیکن اب حالات نارمل ہو گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالات کے پیش نظر پیر کو تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پرتشدد واقعات اور جانی نقصان
ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت مختلف مکاتب فکر کے مذہبی رہنماؤں سے رابطے میں ہے اور ان کے ذریعے مظاہرین کو پرامن رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پرامن مظاہروں کی آڑ میں توڑ پھوڑ کرنے والوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور تشدد پر اترنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں:دفاعی تنصیبات پر کامیاب ایرانی حملوں نے امریکی سیکیورٹی پر نئی بحث چھیڑ دی
ان کے بقول، جو لوگ قانون کے خلاف جائیں گے، مشتعل ہوں گے اور امن و امان خراب کریں گے، قانون ان کے خلاف حرکت میں آئے گا۔
گلگت بلتستان میں پرتشدد واقعات کے دوران گلگت اور اسکردو میں متعدد سرکاری و نجی اداروں کے دفاتر کو نذر آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق گلگت میں پرتشدد مظاہروں کے دوران 10 افراد جاں بحق جبکہ 12 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت شہر میں 6 جبکہ سکردو میں 4 افراد جان بحق ہوئے۔ جبکہ قراقرم ہائی وے بدستور بند ہے۔













