وفاقی آئینی عدالت نے پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی خاتون امیدوار لبنیٰ کی ڈیٹا کلیکشن اسسٹنٹ کے عہدے پر تقرری نہ کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف محکمہ تعلیم کی اپیل خارج کرتے ہوئے فیصلہ جاری کردیا۔
جسٹس ارشد حسین شاہ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ لبنیٰ ضلع بونیر سے تعلق رکھتی ہیں، جو رولز کے مطابق پسماندہ علاقوں کی فہرست میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اصلاحی نظرثانی کے نام پر سپریم کورٹ کے فیصلے دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے، آئینی عدالت
فیصلے کے مطابق پسماندہ علاقی سے تعلق پر انہیں 3 سال کی خودکار رعایت قانونی طور پر حاصل ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ پسماندہ علاقوں کے امیدوار خودکار رعایت کے علاوہ جنرل کیٹیگری کی رعایت کے بھی اہل ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ رولز کے مطابق تقرری اتھارٹی 2 سال اور اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ 5 سال تک کی رعایت دے سکتے ہیں۔
عدالت نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی درست اور آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں کوئی غیر قانونی یا آئینی سقم موجود نہیں۔
مزید پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس، وفاقی حکومت نے آئینی عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
محکمہ تعلیم نے مؤقف اپنایا تھا کہ رولز 2021 کے تحت عمر کی بالائی حد میں کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔
اسی بنیاد پر امیدوار کو زائد العمر قرار دے کر تقرری کا لیٹر جاری کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔
تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے لبنیٰ کی تقرری کو لازم قرار دیا۔














