قطر سے ایل این جی سپلائی متاثر، پاکستان میں گیس کے بحران کا خدشہ؟

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث قطر سے مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد پاکستان میں گیس کے ممکنہ بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس ضمن میں وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی نے کھاد کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر انرجی نے گیس کی پیداوار بند کر کے بعض خریدار ممالک کو ’فورس میجر‘ کا نوٹس جاری کیا ہے، جس کے بعد عالمی گیس مارکیٹ میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران سے آنے والی اشیا مہنگی، سرحدی تجارت بھی متاثر ہونے کا خدشہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران قطر کی اہم گیس تنصیبات کو لاحق خطرات اور بعض حملوں کے بعد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر گیس کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی، جس کے نتیجے میں قطر نے اپنے کئی خریدار ممالک کو گیس کی فراہمی میں تعطل کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

قطر عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد ایل این جی فراہم کرتا ہے، اس لیے اس کی پیداواری صلاحیت میں رکاوٹ سے عالمی توانائی مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق گیس کی پیداوار مکمل طور پر بحال ہونے میں متعدد ہفتے یا ایک ماہ تک لگ سکتے ہیں، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے سے ایل این جی کارگو کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث ایشیا اور یورپ کے ممالک کو سپلائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: پاسداران انقلاب کا شمالی خلیج میں امریکی ٹینکر پر حملہ

پاکستان اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک قطر سے ایل این جی درآمد کرتا ہے، حکام کے مطابق ملک کو طویل المدتی معاہدوں کے تحت ہر ماہ متعدد ایل این جی کارگو ملتے ہیں، جو گھریلو اور صنعتی صارفین کو گیس فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

اگر قطر سے سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو پاکستان میں گھریلو صارفین کو گیس لوڈشیڈنگ کا سامنا ہو سکتا ہے، صنعتوں کو گیس کی فراہمی کم کی جا سکتی ہے، بجلی گھروں کے لیے ایندھن کی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔

ابتدائی اثرات کے طور پر کچھ صنعتی یونٹس اور کھاد کارخانوں کو آر ایل این جی سپلائی میں تعطل کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے اور اب ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی نے کھاد کے کارخانوں کو صورتحال معمول پر آنے تک گیس کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ کے بعد فیول کی کمی کا خدشہ، کیا پاکستان میں ورک فرام ہوم کا فیصلہ ہورہا ہے؟

حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث آر ایل این جی کی درآمد متاثر ہونے سے گیس کے بحران کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اس کے ابتدائی اثرات کراچی میں دیکھے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہونے سے گیس کے نظام میں خلل پیدا ہوا ہے جس کے باعث کراچی کے کئی علاقوں میں گیس پریشر میں شدید کمی اور بعض جگہوں پر سپلائی اچانک بند ہونے کی شکایت سامنے آ رہی ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے ذرائع کے مطابق صورتحال کے پیش نظر گیس لوڈ مینجمنٹ کا نیا شیڈول آئندہ چند دنوں میں جاری کیا جا سکتا ہے، ممکنہ طور پر گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے گی، کمرشل اور صنعتی شعبے کو گیس فراہمی محدود کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا پاکستان کی بندرگاہیں عارضی طور پر بند کی گئی ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے چند ہنگامی اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں متبادل ایل این جی کارگو کی تلاش، گیس لوڈ مینجمنٹ پلان میں تبدیلی اور صنعتی صارفین کے لیے گیس کی فراہمی محدود کرنا شامل ہے۔

اگر قطر میں ایل این جی کی پیداوار اور ترسیل کا عمل جلد بحال نہ ہویا تو پاکستان سمیت کئی ایشیائی ممالک کو گیس کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ماہرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے توانائی کی عالمی منڈی اور پاکستان کے گیس سیکٹر کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp