امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جاری جنگ روکنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔
ریپبلکن ارکان نے جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے صدر کی پالیسی کی ابتدائی حمایت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’امریکا ایران کے ہاتھوں شکست کھا جائیگا‘، دنیا بھر میں چینی پروفیسر کی پیشگوئی کی گونج
قرارداد، جسے وار پاورز ریزولوشن کہا جاتا ہے، 47 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے مسترد ہوگئی۔
ووٹنگ زیادہ تر جماعتی بنیادوں پر ہوئی، تاہم ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے قرارداد کے حق میں جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
Senate Republicans vote down legislation to halt Iran war in Congress' first vote on the conflict https://t.co/NUEbKQhGc4 #nationlnewswatch via @natnewswatch
— National Newswatch (@natnewswatch) March 4, 2026
اس قرارداد کا مقصد یہ تھا کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دی جائے۔
ووٹنگ سے قبل سینیٹ میں ماحول خاصا سنجیدہ رہا اور متعدد ڈیموکریٹ ارکان اپنی نشستوں پر موجود رہے۔
مزید پڑھیں: ’امریکا ایران کے ہاتھوں شکست کھا جائیگا‘، دنیا بھر میں چینی پروفیسر کی پیشگوئی کی گونج
ڈیموکریٹ رہنما چک شومر نے کہا کہ ہر سینیٹر کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگوں سے تنگ امریکی عوام کے ساتھ کھڑا ہے یا صدر ٹرمپ کے ساتھ۔
ادھر ریپبلکن رہنما جان باراسو نے کہا کہ ڈیموکریٹس جنگی قرارداد لا کر سیاسی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، جبکہ اصل توجہ ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل اور امریکا ایران کو ٹکڑے کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ایرانی رہنما علی لاریجانی کا بیان
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ جنگ 8 ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے اور ایران اب بھی میزائل حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس دوران امریکی فوج کے سربراہان نے بھی خبردار کیا کہ خطے میں تعینات امریکی اہلکاروں کو بدستور خطرات لاحق ہیں۔
مزید پڑھیں: ’امریکا ایران کی طاقت کو سمجھنے میں ناکام‘
گزشتہ ہفتے کویت میں ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جس کے بعد جنگ کے انسانی نقصان پر بھی بحث شدت اختیار کرگئی ہے۔
دوسری جانب امریکی ایوانِ نمائندگان میں بھی ایران سے متعلق قرارداد پر بحث جاری ہے، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت اختلافات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔














