ایران نے امریکی فضائی کارروائیوں کے جواب میں اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوب مغربی علاقے میں ایک امریکی F-15E اسٹریک ایگل جنگی طیارہ مار گرایا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے سخت جواب کے طور پر کی گئی ہے۔
Proof of American F15 fighter jet being grounded (shot down) a few hours ago by #Iranian's #IRGC in #Kermanshah.
Now #Iran has several American pilots as prisoners of war👀#USIsraelIranWar #IranWar #Israel #IranIsraelWar #KingRezaPahlavi #TelAviv #IsraelIranConflict pic.twitter.com/7A0eRPROo7
— Proud African (@MpeseProud) March 5, 2026
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے بدھ کی صبح اپنی ایرو اسپیس فورس کے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے امریکی F-15E کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق دو نشستوں والا یہ ملٹی رول اسٹرائیک فائٹر طیارہ ایران کی جنوب مغربی سرحد کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔
ایران نے اس موقع پر کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، سینیئر فوجی کمانڈروں اور شہریوں کے خلاف حملوں کے بعد شروع ہونے والی فوجی مہم کے دوران متعدد شہری اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے جانی نقصان اور تباہی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:پاسداران انقلاب کا شمالی خلیج میں امریکی ٹینکر پر حملہ
ایرانی پاسداران انقلاب نے جواباً امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک میں موجود فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشنز کا سخت جواب ہیں۔
تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی ہے، اور عالمی میڈیا میں اس حوالے سے اطلاعات محدود ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ اعلان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا–ایران تعلقات میں مزید تناؤ کا اشارہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔














