پاکستان نے ایران جنگ کے اقتصادی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستان نے ایران میں جاری کشیدگی کے پیشِ نظر عالمی توانائی کی مارکیٹس اور سپلائی چینز کا گہرا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔  وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریوٹ سے ملاقات میں بتایا کہ حکومت نے اقتصادی خطرات کا روزانہ جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قطر سے ایل این جی سپلائی متاثر، پاکستان میں گیس کے بحران کا خدشہ؟

عرب نیوز کے مطابق پاکستان کی یہ تیاری اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی اور اہم تجارتی راستوں میں ممکنہ خلل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جو پاکستان کی درآمد پر منحصر معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

 وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی میں اہم وفاقی محکمے اور اسٹیٹ بینک شامل ہیں، جو توانائی کی فراہمی، خام تیل، کوئلہ اور گیس سمیت دیگر اہم شعبوں کا روزانہ جائزہ لے رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ کمیٹی عالمی مارکیٹس میں قیمتوں کی حرکات، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور ان کے ممکنہ اثرات پر غور کر رہی ہے تاکہ مہنگائی، بیرونی مالیاتی بیلنس اور مالی استحکام پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کردیا

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس موجودہ وقت میں مناسب ذخائر اور فراہمی کے انتظامات موجود ہیں، لیکن حکومت ممکنہ کشیدگی کے پیشِ نظر صورتحال کا تجزیہ کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے برطانوی ہائی کمشنر کو پاکستان کی اقتصادی اصلاحات، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) پروگرام کے تحت پیش رفت، ٹیکس بیس کی توسیع، تعمیل کے اقدامات اور حکمرانی کی مضبوطی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

جین میریوٹ نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا اور اقتصادی استحکام اور طویل مدتی ترقی کے لیے برطانیہ کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ملاقات میں دونوں فریقین نے سرمایہ کاری کے فروغ، کان کنی اور معدنیات کے شعبوں میں ترقی، اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp