پاک سعودی دفاعی معاہدہ: ایک خاموش مگر مضبوط شراکت داری

جمعہ 6 مارچ 2026
author image

فیصل کمال پاشا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز ایک اہم بیان میں انکشاف کیا کہ جب ایران کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل فائر کیا گیا تو انہوں نے ایرانی قیادت کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ موجود ہے۔

ان کے مطابق اس سفارتی رابطے کے بعد سعودی عرب نے یقین دہانی کرائی کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ جس کے بعد انہوں نے شٹل ڈپلومیسی کی اور پھر ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں خاطر خواہ کمی آئی۔ یہ بیان دراصل اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض رسمی دستاویز نہیں بلکہ ایک فعال، ذمہ دار اور توازن پر مبنی شراکت داری ہے۔

پاک سعودی دفاعی تعلقات: تاریخ اور تسلسل

پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ 1960 کی دہائی سے عسکری تعاون کا آغاز ہوا، جبکہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں پاکستانی افواج نے سعودی عرب میں تربیتی اور مشاورتی کردار ادا کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مشقیں، دفاعی وفود کے تبادلے اور اسٹریٹجک مشاورت ایک مستقل عمل رہا ہے۔

2018 میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اسلامی عسکری اتحاد کا سربراہ مقرر کیا جانا بھی اسی اعتماد کا تسلسل تھا۔ یہ تقرری اس امر کی علامت تھی کہ ریاض، اسلام آباد کو نہ صرف عسکری مہارت بلکہ اسٹریٹجک بصیرت کا حامل شراکت دار سمجھتا ہے۔ پاک سعودی دفاعی تعاون کبھی جارحانہ اتحاد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ اسے علاقائی استحکام، انسدادِ دہشتگردی اور دفاعی صلاحیت سازی کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

حالیہ تناظر: کشیدگی میں ذمہ دارانہ کردار

ایران سعودی کشیدگی کی تاریخ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 2019 میں سعودی آئل تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال نہایت حساس ہو گئی تھی۔ بعد ازاں یمن تنازع اور سفارتی تعطل نے حالات کو مزید پیچیدہ کیا۔ 2023 میں چین کی ثالثی سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بحالی ایک بڑی پیش رفت تھی، مگر خطہ اب بھی مکمل طور پر تناؤ سے پاک نہیں۔

ایسے ماحول میں اسحاق ڈار کا بیان اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے اپنے دفاعی عزم کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ ہی کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش بھی کی۔ سعودی عرب کی جانب سے یہ یقین دہانی کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، دراصل اس دفاعی شراکت کی ذمہ دارانہ نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔

خاموش مگر مضبوط شراکت داری کا مفہوم

پاک سعودی دفاعی معاہدہ بظاہر خبروں کی سرخیوں میں کم آتا ہے، مگر عملی طور پر یہ کئی سطحوں پر فعال ہے، جن میں دفاعی تربیت اور مشاورت، مشترکہ فوجی مشقیں، سکیورٹی تعاون اور انٹیلی جنس رابطہ اور اسٹریٹجک مشاورت شامل ہیں۔

یہ شراکت کسی تیسرے ملک کے خلاف اتحاد نہیں بلکہ باہمی سلامتی کے مفاد میں ایک حفاظتی فریم ورک ہے۔ اس کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بحران کے لمحے میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم ہوا اور فوری یقین دہانی حاصل کی گئی۔

پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی

پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی ہمسایہ، مذہبی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ پاکستان نہ تو کسی بلاک سیاست کا حصہ بننا چاہتا ہے اور نہ ہی علاقائی تصادم کا فریق بننا چاہتا ہے۔ بلکہ اس کی حکمت عملی ’اسٹریٹجک توازن‘ پر مبنی ہے، جس میں دفاعی عزم اور سفارتی احتیاط دونوں شامل ہیں۔

معاشی اور اسٹریٹجک اہمیت

سعودی عرب پاکستان کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے۔ توانائی کی فراہمی، سرمایہ کاری اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا بناتی ہیں۔ دفاعی معاہدہ اس وسیع تر تعلق کا سکیورٹی ستون ہے۔ یہ معاہدہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی ہنگامی صورتحال میں رابطے، مشاورت اور تعاون کے ذریعے بحران کو سنبھال سکیں۔ یہی  خاموش طاقت  کی اصل شکل ہے جس کا مقصد جنگ نہیں بلکہ جنگ کو روکنا ہے۔

اگرچہ بعض حلقوں میں دفاعی معاہدوں کی حدود پر سوال اٹھتے ہیں، مگر عمومی طور پر ایسے معاہدے فوری جنگی شمولیت کی ضمانت نہیں دیتے بلکہ مشاورتی اور حفاظتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں پاک سعودی دفاعی تعاون کو ایک ذمہ دار، باہمی احترام پر مبنی اور طویل المدتی شراکت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اعتماد، توازن اور استحکام

اسحاق ڈار کے حالیہ بیان نے ایک اہم حقیقت کو اجاگر کیا ہے: پاک سعودی دفاعی معاہدہ کوئی عارضی انتظام نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط اعتماد کا مظہر ہے۔ یہ شراکت شور شرابے سے دور، مگر عملی طور پر مضبوط ہے۔ یہ اتحاد کسی تصادم کو ہوا دینے کے لیے نہیں بلکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔

پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ اپنے دفاعی وعدوں کو برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن، توازن اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کو فروغ دیتا رہے۔ یوں پاک سعودی دفاعی معاہدہ واقعی ایک  خاموش مگر مضبوط شراکت داریہے جو بحران کے لمحے میں طاقت، اعتماد اور تدبر تینوں کا اظہار کرتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟