امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملوں میں ایران کے رہبر اعلٰی اور دنیائے اسلام کے اہم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، ایران نے بھی اس بات کی تصدیق کی اور سرکاری ٹی وی چینل کے ذریعے یہ خبر لوگوں تک پہنچائی گئی۔ دوسری جانب عالم اسلام تاحال ان کی شہادت قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے رہنما ابھی زندہ ہیں اور میڈیا کے ذریعے غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں یا پھر کسی جنگی حکمت عملی کے تحت یہ سب کیا جا رہا ہے۔
عراق سے وسطی ایشیا اور پاکستان تک امام خمینی کی شہادت کے خلاف غصے سے بھرپور احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، اور عوام شدید مشتعل ہیں۔
تاہم دوسری طرف کچھ حلقے ایسی افواہوں پر تبصرے کر رہے ہیں جو اس معاملے کو بالکل ایک دوسرے زاویے سے پیش کرتا ہے۔
بعض حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ممکن ہے حملے میں نشانہ بننے والا شخص ان کا ہم شکل یا قریبی فرد ہو، جبکہ آیت اللہ خامنائی خود محفوظ ہیں۔
اس مؤقف کے حق میں یہ استدلال پیش کیا جا رہا ہے کہ اگر واقعی آیت اللہ خامنہ ای جو کہ ایرانی نظام سلطنت کا مرکز تھے، شہید ہو جاتے تو ایران کی حکومت فوری، واضح اور غیر مبہم انداز میں باضابطہ اعلان کرتی اور فوراً نئےسپریم لیڈر کا اعلان ہوتا تاکہ قیاس آرائیوں کی گنجائش باقی نہ رہے۔
لیکن چونکہ حکومت نے ایسا اعلان نہیں کیا اور تاحال خامنہ ای کی آخری رسومات بھی منعقد نہیں کی گئیں تو اس افواہ کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھ جاتے ہیں۔
مبصرین اس کے حق میں یہ دلیل پیش کر رہے ہیں کہ سرکاری سطح پر فوری اور دو ٹوک وضاحت سامنے نہ آنے اور اتنے بڑے معاملے پر مختلف دعوے غیر سرکاری یا اپوزیشن حلقوں سے سامنے آئیں تو شکوک و شبہات جنم لینا فطری امر بن جاتا ہے۔
اس نظرئیے کے پیچھے یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ ممکن ہے دشمن کو گمراہ کرنے یا اصل شخصیت کو محفوظ رکھنے کے لیے ہم شکل کی ہلاکت کو اصل واقعہ بنا کر پیش کیا گیا ہو۔
اس پر یقین کرنے والے حلقے بتاتے ہیں کہ اس طرح کی حکمت عملی تاریخ میں کئی مرتبہ استعمال ہوتی رہی ہے جہاں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اصل شخصیت کو پس منظر میں رکھا جاتا ہے اور دنیا کے سامنے ایک مختلف تصویر پیش کی جاتی ہے۔
اسی لیے اس پورے معاملے پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے یہ سوال بدستور موجود ہے کہ آیا دنیا جس خبر کو حقیقت سمجھ رہی ہے، وہ واقعی مکمل حقیقت ہے یا اس کہانی کا اصل رخ ابھی سامنے آنا باقی ہے۔
اگرچہ تمام مسلمانوں بالخصوص اہل ایران اور اس کے محبین کی یہ دلی خواہش ہو گی کہ خامنہ ای کسی بھی طریقے سے زندہ ثابت ہو جائیں لیکن بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔
ویسے تو شہید ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور اس دنیا میں موجود نہ ہو کر بھی اپنے ثمرات اپنے وطن، دین اور اہل خانہ کو پہنچاتا رہتا ہے، لیکن خامنہ ای کی شہادت کو ان کے پیروکاروں کو کھلے دل سے تسلیم کر کے ان کے لئے دعا کرنی چاہیٗے اور اس حقیقت کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھ کر کچھ ایسے اقدام کرنے چاہیئں جو ان کی تعلیم اور فلسفے کی ترویج کا باعث بنیں۔
خامنہ ای کے پیروکاروں کو اس واقعے سے سبق سیکھ کر خود کو ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی آگے بڑھانا چاہیے اور اس وقت تک انتھک محنت کرنا چاہیے جب تک جدید ٹیکنالوجی میں دشمن سے آگے نکل کر خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ نہ لے لیں یا پھر اگر خامنہ ای واقعی اس دنیا میں موجود ہیں تو خود سامنے آ کر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت نہ دے دیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














