اکتوبر 2025 کے آخر میں نریندر مودی نے نیلے بحریہ کے یونیفارم اور چشمہ پہن کر ملک کے سمندری دستوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت کے بحری حدود اور بحر ہند کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا۔
مودی نے کہا کہ بھارتی بحریہ بحر ہند کی محافظ ہے
اس دوران حاضرین نے ’ بھارت ماتا زندہ باد ‘ کے نعرے بلند آواز سے لگائے۔
بھارت سے تعلق رکھنے والے صحافی یشراج شرما کا کہنا ہے کہ مودی کے اس دعوے کے صرف 5 ماہ بعد بھارت کی ساکھ کو چیلنج کیا گیا۔ بدھ کو ایرانی جنگی جہاز IRIS Dena کو امریکی سب میرین نے سری لنکا کے جنوب سے صرف 81 کلومیٹر دور ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا، جب جہاز بھارت کی جانب سے میزبان کی گئی نیول مشقوں مِلان سے واپس جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے ایرانی بحری جنگی جہاز پر امریکی حملہ، بھارت کی متضاد پالیسی اور بحرِ ہند میں اس کے کردار پر سوالات
مشقوں کے دوران بھارتی صدر دروپدی مرمو نے ایرانی جہاز کے بحری اہلکاروں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں تھیں۔
یشراج شرما نے الجزیرہ ٹی وی کو بتایا کہ ایرانی جہاز پر حملے کے بعد بھارتی بحریہ نے ایک دن سے زیادہ وقت لینے کے بعد رسمی ردعمل دیا۔ امریکی حکام نے واضح کیا کہ یہ حملہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف جنگ کو بڑھانے کی تیاری اور عزم کا مظہر تھا۔
ایران کے جہاز پر امریکی حملے نے بھارت کے ’بحر ہند کے محافظ‘ کے دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا، کیونکہ بھارت اپنی سرزمین کے باہر ایک مہمان جہاز کی حفاظت کرنے میں ناکام نظر آیا۔
یہ بھی پڑھیے ایران کیخلاف بھارتی مخبری کے بعد ایرانی جہاز پر آبدوز حملہ، 101 لاپتا، امدادی کارروائیاں جاری
اب بحر ہند کی محافظ نااہل ہے یا پھر نریندر مودی نے امریکا سے کوئی ڈیل کی ہوئی ہے۔ اور اسی ڈیل کے تحت ایرانی مہمان سمندری جہاز پر حملہ ہوا، اور ابھی تک نریندر مودی نے اس حملے کی مذمت نہیں کی، حالانکہ امریکا نے سینہ تان کر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف بھارت کی سمندری ساکھ پر اثر ڈال سکتا ہے بلکہ علاقائی دفاعی اور سیاسی توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔














