IRIS Dena آئیرس دینا ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز تھا جو انڈیا کی ملان 2026 بحری مشقوں میں شریک ہوا ۔ 4 مارچ کو ایران واپسی پر اس ایرانی جہاز کو امریکی آبدوز نے سری لنکا کے شہر گال کے قریب نشانہ بنا کر ڈبو دیا ۔ سری لنکن بحریہ صرف 32 سیلر کو بچا سکی ۔ 87 سیلر کی لاشیں ہی مل سکی تھیں ، جبکہ دس لاپتہ رہے ۔ اس واقعے نے انڈیا ایران تعلقات کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔ خیرسگالی کے تحت مشقوں میں حصہ لینے گیا ہوا ایرانی جہاز انڈین اوشن میں مڈل ایسٹ کے تنازعے سے دور امریکی آبدوز کا نشانہ بن گیا ۔
ایک کروڑ انڈین مڈل ایسٹ کے ملکوں میں کام کرتے ہیں ۔ ایران کی چاہ بہار پورٹ پر انڈیا نے سرمایہ کاری کر رکھی تھی ۔ نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کاریڈو وہ دوسرا بڑا منصوبہ ہے جو انڈیا کو ایران اور روس کے راستے یورپ سے ملانے کے لیے زیر تعمیر ہے ۔ انڈیا اپنے سرکاری بیانات میں غیرجانبداری برقرار رکھنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ اپنے بیانات کے برعکس انڈیا کی اسرائیل سے قربت چھپائے نہیں چھپتی ۔
ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے کے آغاز سے صرف 48 گھنٹے پہلے مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا ۔ سرینڈر مودی کا کہنا تھا کہ انڈیا مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے ۔ ایرانی رہبر علی خامینائی کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کی بھی انڈیا نے مذمت نہیں کی ۔ انڈیا ابو ظہبی ، اسرائیل اور امریکہ تینوں کو ہی ناراض کرنے سے بچنے کی جدوجہد کرتا دکھائی دیتا ہے ۔
انڈیا یو اے ای ، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ آئی ٹو یو ٹو اتحاد کا ممبر بھی ہے ۔ یو اے ای کے ساتھ 2006 میں انڈیا نے سٹریٹجک ڈیفنس پارٹنر شپ کا معاہدہ بھی کیا ۔ آئی ایم ای سی کاریڈور بھی انڈیا کو مڈل ایسٹ اور اسرائیل کے ذریعے یورپ تک ملانے کا منصوبہ ہے ۔ یہ بھی انڈیا کے مڈل ایسٹ میں انٹرسٹ اور اسرائیل سے تعلقات میں گہرائی ظاہر کرتا ہے ۔ اسرائیل کے ساتھ انڈیا نے ڈیفنس انڈسٹری ، سائبر سیکیورٹی ، انسداد دہشت گردی ، نیوکلیر سیفٹی اور سپیشل آپریشن کے علاوہ 2032 تک باہمی تجارت ڈبل کرنے کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے ۔ اسرائیل انڈیا کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے ۔
ایران کے ساتھ انڈیا کے تاریخی تعلقات انرجی ، کلچر ، ریجنل کنیکٹیوٹی ، کاریڈور اور چاہ بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری سے متعلق دکھائی دیتے ہیں ۔ امریکی پابندیوں اور اسرائیل سے بڑھتے تعلقات انڈیا ایران تعلقات کو سرد کرتے جا رہے ہیں ۔ انڈیا کا ایران سے بریک اپ اگر ابھی دور ہے تب بھی ایک لاتعلقی کا اظہار ہو رہا ہے ۔ ایران معاشی اور سیاسی طور پر عدم استحکام کی طرف جا رہا ہے ۔ انڈیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ۔ ایران میں سرمایہ اور کنیکٹیوٹی کے پراجیکٹ امریکی پابندیوں کا شکار ہو چکے ہیں ۔
بھارت جو کبھی غیر جانبدار ہونے کا چمپئن بنتا تھا اب واضح سائڈ لے رہا ہے ۔ اسرائیل کی حمایت انڈیا کو مہنگی پڑ سکتی ہے ۔ مڈل ایسٹ میں عوامی رائے عامہ اس کے خلاف بھڑک سکتی ہے ۔ بھارت کو بیرون ملک مقیم شہری 129 ارب ڈالر ہر سال بھجواتے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں 43 اور سعودی عرب میں 25 لاکھ بھارتی مقیم ہیں ۔ دیگر خلیجی ملکوں میں مقیم بھارتی اس کے علاوہ ہیں ۔
بھارت مغربی ایشیا کی سیاسی تقسیم کا حصہ بنتا جا رہا ہے ۔ جب کسی کے ساتھ پوزیشن لیتا دکھائی دے گا تو اس کے اثرات بھی بھگتے گا ۔ انڈیا کو اپنی پوزیشن بدلنے کا ایک فوری فائدہ تو ہوا ہے ۔ امریکہ نے روسی تیل خریدنے کے لیے انڈیا کو ایک مہینے کے لیے چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس فیور کی اصل وجہ آبنائے ہرمز بند ہونے اور اس سے پیدا ہوتا انرجی سپلائی کا بحران ہے جس کا دنیا کو سامنا ہے ۔ انڈیا نے اپنے سٹریٹجک دفاعی معاہدے کی لاج رکھنے کی کوشش میں امارات کو دفاع کے لیے اپنے تیجے (تیجاس فائیٹر جیت) فراہم کرنے کی آفر بھی ماری ۔ اس آفر پر آگے سے اک ٹھنڈی سانس اور چپ ہی ملی ۔ ٹرمپ نے انڈیا کے پاکستان کے ہاتھوں گرے جہازوں کی گنتی جاری رکھی ہوئی ہے ۔ جو اب گیارہ تک پہنچ گئی ہے اور درجن ہونے ہی والی ہے ۔
ان حالات میں اگر انڈیا کسی کو دفاع میں مدد کی پیشکش کرے تو اگلا سڑ کر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ تیرا میرا مذاق ہے کوئی ؟ ۔ سرینڈر مودی پر نحوست باقاعدہ برس رہی ہے ۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو کابل کی طالبان حکومت سے پوچھ لیں یا مت پوچھیں کہیں غصہ ہی نہ کر جائیں ۔ کابل والوں کے برے دن تب ہی شروع ہوئے جب وہ مودی کے بھارت مہان کے نزدیک ہوئے ۔ مودی کی باتوں اور محبتوں میں آیا اسرائیل ایران سے کھنے سینکوا بیٹھا تو مودی کے پنوتی پن کو لازمی داد دے گا ۔ وہ تو جو ہو گا پتہ لگ جائے گا ، ایرانیوں کی نظر میں بھارت یقینی طور پر اب مہان نہیں رہا ۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













