ایران کی نظروں میں اب ہمارا بھارت کتنا مہان رہ سکے گا

جمعہ 6 مارچ 2026
author image

وسی بابا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

IRIS Dena آئیرس دینا ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز تھا جو انڈیا کی ملان 2026 بحری مشقوں میں شریک ہوا ۔ 4 مارچ کو ایران واپسی پر اس ایرانی جہاز کو امریکی آبدوز نے سری لنکا کے شہر گال کے قریب نشانہ بنا کر ڈبو دیا ۔ سری لنکن بحریہ صرف 32 سیلر کو بچا سکی ۔ 87 سیلر کی لاشیں ہی مل سکی تھیں ، جبکہ دس لاپتہ رہے ۔ اس واقعے نے انڈیا ایران تعلقات کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔ خیرسگالی کے تحت مشقوں میں حصہ لینے گیا ہوا ایرانی جہاز انڈین اوشن میں مڈل ایسٹ کے تنازعے سے دور امریکی آبدوز کا نشانہ بن گیا ۔

ایک کروڑ انڈین مڈل ایسٹ کے ملکوں میں کام کرتے ہیں ۔ ایران کی چاہ بہار پورٹ پر انڈیا نے سرمایہ کاری کر رکھی تھی ۔ نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کاریڈو وہ دوسرا بڑا منصوبہ ہے جو انڈیا کو ایران اور روس کے راستے یورپ سے ملانے کے لیے زیر تعمیر ہے ۔ انڈیا اپنے سرکاری بیانات میں غیرجانبداری برقرار رکھنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ اپنے بیانات کے برعکس انڈیا کی اسرائیل سے قربت چھپائے نہیں چھپتی ۔

ایران پر اسرائیل اور امریکی حملے کے آغاز سے صرف 48 گھنٹے پہلے مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا ۔ سرینڈر مودی کا کہنا تھا کہ انڈیا مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے ۔ ایرانی رہبر علی خامینائی کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کی بھی انڈیا نے مذمت نہیں کی ۔ انڈیا ابو ظہبی ، اسرائیل اور امریکہ تینوں کو ہی ناراض کرنے سے بچنے کی جدوجہد کرتا دکھائی دیتا ہے ۔

انڈیا یو اے ای ، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ آئی ٹو یو ٹو اتحاد کا ممبر بھی ہے ۔ یو اے ای کے ساتھ 2006 میں انڈیا نے سٹریٹجک ڈیفنس پارٹنر شپ کا معاہدہ بھی کیا ۔ آئی ایم ای سی کاریڈور بھی انڈیا کو مڈل ایسٹ اور اسرائیل کے ذریعے یورپ تک ملانے کا منصوبہ ہے ۔ یہ بھی انڈیا کے مڈل ایسٹ میں انٹرسٹ اور اسرائیل سے تعلقات میں گہرائی ظاہر کرتا ہے ۔ اسرائیل کے ساتھ انڈیا نے ڈیفنس انڈسٹری ، سائبر سیکیورٹی ، انسداد دہشت گردی ، نیوکلیر سیفٹی اور سپیشل آپریشن کے علاوہ 2032 تک باہمی تجارت ڈبل کرنے کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے ۔ اسرائیل انڈیا کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے ۔

ایران کے ساتھ انڈیا کے تاریخی تعلقات انرجی ، کلچر ، ریجنل کنیکٹیوٹی ، کاریڈور اور چاہ بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری سے متعلق دکھائی دیتے ہیں ۔ امریکی پابندیوں اور اسرائیل سے بڑھتے تعلقات انڈیا ایران تعلقات کو سرد کرتے جا رہے ہیں ۔ انڈیا کا ایران سے بریک اپ اگر ابھی دور ہے تب بھی ایک لاتعلقی کا اظہار ہو رہا ہے ۔ ایران معاشی اور سیاسی طور پر عدم استحکام کی طرف جا رہا ہے ۔ انڈیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ۔ ایران میں سرمایہ اور کنیکٹیوٹی کے پراجیکٹ امریکی پابندیوں کا شکار ہو چکے ہیں ۔

بھارت جو کبھی غیر جانبدار ہونے کا چمپئن بنتا تھا اب واضح سائڈ لے رہا ہے ۔ اسرائیل کی حمایت انڈیا کو مہنگی پڑ سکتی ہے ۔ مڈل ایسٹ میں عوامی رائے عامہ اس کے خلاف بھڑک سکتی ہے ۔ بھارت کو بیرون ملک مقیم شہری 129 ارب ڈالر ہر سال بھجواتے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات میں 43 اور سعودی عرب میں 25 لاکھ بھارتی مقیم ہیں ۔ دیگر خلیجی ملکوں میں مقیم بھارتی اس کے علاوہ ہیں ۔

بھارت مغربی ایشیا کی سیاسی تقسیم کا حصہ بنتا جا رہا ہے ۔ جب کسی کے ساتھ پوزیشن لیتا دکھائی دے گا تو اس کے اثرات بھی بھگتے گا ۔ انڈیا کو اپنی پوزیشن بدلنے کا ایک فوری فائدہ تو ہوا ہے ۔ امریکہ نے روسی تیل خریدنے کے لیے انڈیا کو ایک مہینے کے لیے چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس فیور کی اصل وجہ آبنائے ہرمز بند ہونے اور اس سے پیدا ہوتا انرجی سپلائی کا بحران ہے جس کا دنیا کو سامنا ہے ۔ انڈیا نے اپنے سٹریٹجک دفاعی معاہدے کی لاج رکھنے کی کوشش میں امارات کو دفاع کے لیے اپنے تیجے (تیجاس فائیٹر جیت) فراہم کرنے کی آفر بھی ماری ۔ اس آفر پر آگے سے اک ٹھنڈی سانس اور چپ ہی ملی ۔ ٹرمپ نے انڈیا کے پاکستان کے ہاتھوں گرے جہازوں کی گنتی جاری رکھی ہوئی ہے ۔ جو اب گیارہ تک پہنچ گئی ہے اور درجن ہونے ہی والی ہے ۔

ان حالات میں اگر انڈیا کسی کو دفاع میں مدد کی پیشکش کرے تو اگلا سڑ کر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ تیرا میرا مذاق ہے کوئی ؟ ۔ سرینڈر مودی پر نحوست باقاعدہ برس رہی ہے ۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو کابل کی طالبان حکومت سے پوچھ لیں یا مت پوچھیں کہیں غصہ ہی نہ کر جائیں ۔ کابل والوں کے برے دن تب ہی شروع ہوئے جب وہ مودی کے بھارت مہان کے نزدیک ہوئے ۔ مودی کی باتوں اور محبتوں میں آیا اسرائیل ایران سے کھنے سینکوا بیٹھا تو مودی کے پنوتی پن کو لازمی داد دے گا ۔ وہ تو جو ہو گا پتہ لگ جائے گا ، ایرانیوں کی نظر میں بھارت یقینی طور پر اب مہان نہیں رہا ۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان