مشرقِ وسطیٰ میں ایک خبر نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے، اور وہ ہے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت۔
خبر سامنے آتے ہی دنیا بھر میں سوالات اور قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ کچھ حلقوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا واقعی خامنہ ای خود نشانہ بنے ہیں، یا دشمن کو گمراہ کرنے کے لیے کسی ہم شکل یا قریبی فرد کو استعمال کیا گیا؟
یہ سوال محض افواہ نہیں بلکہ تاریخ کے کئی واقعات کی روشنی میں پیدا ہوا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ طاقتور اور متنازع رہنماؤں نے اپنی حفاظت کے لیے مختلف حکمت عملیاں اختیار کیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایڈولف ہٹلر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عوامی تقریبات میں ہم شکل افراد استعمال کرتے تھے تاکہ ممکنہ حملوں سے بچا جا سکے۔
اسی طرح عراق کے سابق صدر صدام حسین کے بارے میں بھی مشہور تھا کہ انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے متعدد ڈبلز تیار کیے تھے جو خطرناک مواقع پر ان کی جگہ نظر آتے تھے۔
سوویت یونین کے دور میں بھی بعض طاقتور رہنماؤں کے لیے ہم شکل افراد کی موجودگی کی خبریں سامنے آتی رہیں۔ بعد ازاں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھی دنیا بھر میں مختلف نظریات گردش کرتے رہے۔ کچھ مبصرین نے اسے معلوماتی جنگ یا سکیورٹی ناکامی کو چھپانے کی کوشش قرار دیا۔
یہ مثالیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جنگ اور سیاست میں بعض اوقات صرف طاقت ہی نہیں، بلکہ نفسیاتی حربے، اطلاعاتی جنگ اور دھوکہ دہی کی حکمت عملیاں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ دشمن کو گمراہ کرنا، داخلی استحکام برقرار رکھنا اور سیاسی فائدہ حاصل کرنا ایسے اقدامات کے ممکنہ مقاصد ہو سکتے ہیں۔
تاہم جدید دور میں حقیقت کو مکمل طور پر چھپانا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔ سیٹلائٹ نگرانی، عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا کے تیز رفتار نیٹ ورکس کے باعث معلومات لمحوں میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں۔ جدید انٹیلی جنس نظام بھی کسی بڑے واقعے کی تصدیق یا تردید بہت جلد کر دیتے ہیں۔
اسی لیے آج کے دور میں اگرچہ معلومات کو وقتی طور پر محدود کیا جا سکتا ہے، مگر مکمل سچ کو طویل عرصے تک چھپانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
ایران نے سرکاری سطح پر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کی ہے اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے عبوری انتظامات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بھی حملے اور اس کے نتائج کی تصدیق کی اطلاعات نے اس خبر کی سچائی کو مزید تقویت دی ہے۔
لہٰذا ابتدائی قیاس آرائیوں کے باوجود موجودہ صورتحال یہی بتاتی ہے کہ یہ واقعہ محض کسی ہم شکل حکمت عملی کا حصہ نہیں بلکہ ایک حقیقی سانحہ ہے۔
بطور مبصر میرا مؤقف یہی ہے کہ اگرچہ تاریخی مثالیں دلچسپ ضرور ہیں، مگر موجودہ صورتحال میں ان نظریات کو زیادہ وزن دینا مناسب نہیں۔ ایران نے خود اس واقعے کو تسلیم کیا ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کی تصدیق سامنے آ چکی ہے۔
ایسی صورت میں ہم شکل حکمت عملی کا نظریہ زیادہ تر قیاس آرائیوں اور تجزیاتی دلچسپی تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت وہی ہوتی ہے جو شواہد، سرکاری بیانات اور بین الاقوامی تصدیق کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
جنگ اور سیاست میں معلومات بھی ایک طاقتور ہتھیار بن چکی ہیں۔ تاریخی حکمت عملیاں اور نفسیاتی کھیل اپنی جگہ اہم ہیں، مگر موجودہ دور میں سچ زیادہ دیر تک پردے میں نہیں رہ سکتا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














