توانائی کا ممکنہ عالمی بحران اور اس سے بچت کی صورت

ہفتہ 7 مارچ 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خلیجی جنگ کا وہ پہلا نتیجہ دنیا کے سامنے حقیقت بن کر کھڑا ہوگیا ہے جس سے ایران ہی نہیں عالمی ماہرین نے بھی بار بار خبردار کیا تھا۔ یعنی آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے نتیجے میں توانائی کا ممکنہ بڑا عالمی بحران۔ آبنائے ہرمز بند ہوچکی، اور دنیا بھر کی آئل شپمنٹس کی انشورنس کرنے والے برطانوی اداروں نے خلیج میں آئل ٹینکروں کی انشورنس بند کردی ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حسب معمول یہاں بھی بڑ ماری کہ آبنائے ہرمز میں امریکa انشورنس فراہم کرے گا، لیکن ٹینکرز مالکان نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ محض ایک بڑ ہے، کوئی قابل عمل متبادل نہیں۔

بحران کی شدت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے نتیجے میں قطر نے اپنی ایل این جی کی محض برآمدات بند نہیں کیں بلکہ ایل این جی پیدوار اور ترسیل کا پورا نظام ہی عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کریں بھی تو اسے دوبارہ چلانے میں تقریباً 2 ہفتے لگ سکتے ہیں، اور پھر مزید 2 ہفتے  پیداوار اور ترسیل کو پرانی سطح تک لانے میں لگیں گے۔

لیکن یہ معاملہ محض مشرق وسطیٰ تک رہا بھی نہیں بلکہ صورتحال کی سنگینی میں چین بھی اپنی ریفائنریز بند کرکے اضافہ کردیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی کہہ رہے ہیں کہ شاید ہمیں یورپ کو گیس کی برآمدات بند کر دینی چاہییں۔ یورپ نے تو 2027 تک روسی توانائی پر مکمل پابندی لگانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اب پیوٹن کہہ رہے ہیں کہ 2027 کو بھول جائیں، شاید ہم ابھی ہی بند کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں:فراعنہ قندھار

 ایرانی اس معاملے میں ایک بہت چالاک کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، نہیں، نہیں، ہماری فوج نے آبنائے ہرمز بند نہیں کی۔ لیکن دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب سے جڑے حکام کہتے ہیں کہ ہم نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔ اصل میں ایران میں 2 متوازی فوجی نظام ہیں جو ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ ایک طرف باقاعدہ قومی فوج ہے جو ریاست کی نمائندگی کرتی ہے، اور دوسری طرف آئی آر جی سی کی شکل میں ایک الگ طاقتور ادارہ ہے، جو انقلاب اور اس کے تشکیل کردہ نظام کا محافظ ہے۔ یوں ایرانی اس دوہرے نظام کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جب انہیں فائدہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز بند نہیں، اور جب چاہیں تو تسلیم بھی کر لیتے ہیں کہ عملی طور پر بند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت صرف وہی جہاز اور آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں جنہیں ایران اجازت دیتا ہے۔ اب تک صرف 2 جہازوں کو گزرنے دیا گیا ہے، اور یہ دونوں چین کے تھے۔ اس کا اثر اب واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

اس مجموعی صورتحاl پر فائناشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ خلیج کی صورتحال جلد ہی مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ خلیجی ممالک تیل برآمد نہیں کر پا رہے، اس لیے جو تیل وہ نکال رہے ہیں اسے ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں میں ڈال رہے ہیں۔ لیکن وہ ذخیرہ گاہیں جلد بھرنے والی ہیں۔ کویت میں تقریباً 3 دن میں ٹینک بھر جائیں گے۔ متحدہ عرب امارات میں تقریباً 5 دن میں۔ جیسے ہی یہ ٹینک بھر جائیں گے، انہیں تیل کی پیداوار روکنی پڑے گی۔

سعودی عرب کے پاس دنیا کی سب سے بڑی تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں 6 بڑے ذخیرہ مراکز ہیں۔ ان میں سے 4 تقریباً بھر چکے ہیں اور صرف 2 باقی رہ گئے ہیں۔ اگر یہ صورتحال 100 دن تک جاری رہی اور آبنائے ہرمز 100 دن تک بند رہی تو  باقی 2 بھی بھر جائیں گے۔ اس کے بعد سعودی عرب کو بھی تیل کی پیداوار روکنی پڑے گی۔ اور یہ ایک بہت بڑا عالمی بحران ہوگا۔ اس نوعیت کا بحران دنیا نے 1973 کے تیل بحران کے بعد نہیں دیکھا۔ اور  اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس ہوں گے۔

سمجھنے والا ایک نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر تیل کے کنویں بند ہو جائیں تو انہیں دوبارہ چلانے میں وقت لگتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے قطر میں گیس کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے میں وقت لگے گا۔ اگر تیل کی پیداوار چند ہفتوں سے زیادہ بند رہے تو تیل کے کنوؤں کو نقصان پہنچنا شروع ہو جاتا ہے اور انہیں دوبارہ شروع کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ اس صورت میں تیل کا بحران  صرف چند ہفتوں تک نہیں  بلکہ ممکن ہے مہینوں تک کھینچ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ بحران سب سے زیادہ صنعتی ممالک کو ہٹ کرے گا، مثلاً جاپان، کوریا اور یورپ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جن کا غیر معمولی انحصار مشرق وسطیٰ سے آنے والے ایندھن پر ہی ہے۔ اور یہ بحران صرف تیل ہی نہیں گیس کا بھی ہوگا۔ قطر سے ایل این جی کی فراہمی بند ہونے سے یہ بحران مزید شدت اختیار کرتا نظر آتا ہے۔

دیکھنے والا ایک بہت اہم پہلو یہ ہے کہ امریکا خود کو اس بحران سے کیسے بچاتا ہے جو پیدا کردہ ہی اسی کا ہے؟۔ امریکا میں اس سال مڈ ٹرمپ الیکشن آرہے ہیں، سو تیل اور گیس کی قیمتیں اگر امریکا میں بھی بڑھتی ہیں تو اس کا سیدھا اثر آنے والے الیکشن کے نتائج پر پڑے گا۔ سو امریکی حکومت، مڈٹرم انتخابات سے پہلے اپنے اسٹریٹیجک تیل ذخائر سے تیل نکالنا شروع کرے گی تاکہ امریکا میں قیمتیں قابو میں رکھی جا سکیں۔اور ممکن ہے کہ وہ ایل این جی کی برآمدات بھی روک دے۔ اگر ایسا ہوا تو یورپ شدید بحران میں پھنس جائے گا۔ کیونکہ رشین گیس سے محروم ہونے کے بعد اس کا ایل این جی کے لیے سارا انحصار ہی قطر اور امریکا پر ہے۔

ویسے بھی اس سال یورپ کے گیس ذخائر کم ہیں کیونکہ موسمِ سرما بہت سرد رہا تھا۔ ایل این جی کی قیمتیں پہلے ہی زیادہ تھیں اور اب مزید بڑھ رہی ہیں۔ سو اگر قطر سے ایل این جی نہ آئے، امریکا سے بھی ایل این جی رک جائے اور روس بھی یورپ کو گیس بیچنے سے انکار کر دے تو یورپ کے لیے صورتحال انتہائی سنگین ہو جائے گی۔

اب سوال یہ  آجاتا ہے کہ اس بحران سے بچنے کے لیے یورپ کیا کرے گا؟ بلکہ زیادہ درست سوال شاید یہ ہے کہ یورپ اس بحران سے بچنے کے لیے کیا کر رہا ہے؟ سرِ دست تو یورپ کی حالت  شاہراہ پر کھڑے اس خرگوش جیسی ہے جو گاڑی کی روشنی میں ساکت ہو جاتا ہے اور ٹرک آکر اسے کچل دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یورپ میں واقعی توانائی کی کمی شروع ہو جائے گی، قیمتیں آسمان تک پہنچ جائیں گی، سخت راشن بندی ہوگی، اور آنے والی سردیوں کے دوران شہروں کو گیس کی فراہمی بند کرنا پڑے گی، اور یورپ کی صنعتیں تباہ ہونا شروع ہو جائیں گی تب جا کر شاید انہیں ہوش آئے۔

یورپ کے لیے یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ کمزور ممالک کے خلاف تو یہ بہت آرام سے امریکا کے اتحادی بن کر جنگ میں کود جایا کرتے تھے، لیکن ایرانی میزائلوں کا خوف انہیں اس بار امریکی حمایت سے دور رکھ رہا ہے۔ جس پر ڈونلڈ ٹرمپ سخت غصے میں بھی ہیں۔  وہ فرانس کے صدر میکرون سے ناراض ہیں، برطانیہ کے اسٹارمر سے بھی ناراض ہیں، اور اسپین کے وزیر اعظم سانچیز پر تو بہت زیادہ غصے میں ہیں۔ سو ٹرمپ سے براہ راست بات کی آپشن تو ان کے پاس نہیں ہے۔ کیونکہ ٹرمپ جنگ میں ان کی شرکت کا مطالبہ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ اگر تم ساتھ دو تو جلدی سے ایران کو ختم کرکے اس بحران سے نجات حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ جلدی سے تو یہ بے وسائل ملک افغانستان سے بھی جان نہیں چھڑا سکے تھے تو ایران سے کیسے نمٹ لیں گے؟ وہ ایران جس کے میزائل یورپ تک ریچ رکھتے ہیں۔ ایک بھی میزائل برلن اور برسلز میں گرا تو سب کے طوطے اڑ جائیں گے۔ کیونکہ مغربی اقوام ’تابوت‘ کسی صورت افورڈ نہیں کرپاتیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا عمران خان کی سیاسی واپسی ممکن ہے؟

سو یورپ کے پاس واحد قابل عمل آپشن یہ ہے کہ یہ مشرقی وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل جائے اور ان ممالک کو آگے رکھ کر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالے۔ یہ دو طرح کے ممالک کا دباؤ ہوگا۔ ایک وہ ممالک جو تیل اور گیس پیدا کرتے ہیں، اور دوسرے وہ اہم ترین ممالک جو تیل و گیس کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ بات طے ہی سمجھیے کہ اگر یہ دونوں گروپ پیشرفت شروع کردیں تو باقی دنیا خود بخود ان کے ساتھ ملتی چلی جائے گی۔ احتیاط انہیں بس یہی کرنی ہوگی کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اس جھانسے میں نہ آئیں کہ آؤ مل کر ایران کو جلدی سے ختم کر لیتے ہیں، اس سے توانائی کا بحران بھی جلد ختم ہوجائے گا۔ اس سے بچنا اس لیے ضروری ہے کہ ایسا ہونے کی صورت روس اور چین خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ دنیا آن واحد میں تیسری عالمی جنگ کا شکار ہو جائے گی جو یقینی طور پر ایٹمی جنگ بھی ثابت ہوگی۔ دنیا اب تک تیسری عالمی جنگ سے اسی لیے محفوظ ہے کہ یہ دوسری عالمی جنگ والی غیر ایٹمی دنیا نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کا چلنا لگ بھگ یقینی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پورٹ قاسم پر تیل بردار جہاز کی ہنگامی برتھنگ شروع،مزید 2 جہاز جلد پاکستان پہنچے گے

مشرق وسطیٰ بحران: وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کیا ہیں؟

اسلام آباد: پریس کلب انڈرپاس ٹریفک کے لیے بند، متبادل راستے کیا ہیں؟

آپ کے گھر کا پتا اور ذاتی معلومات آن لائن فروخت ہو رہی ہیں، تدارک کیا ہے؟

وائی فائی سے نگرانی، کیسے رؤٹر دیواروں کے پار انسانی حرکت دیکھ سکتا ہے؟

ویڈیو

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

ڈی بال کی راتیں: رمضان المبارک میں لیاری کی گلیوں کی رونق

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان