مشرق وسطیٰ بحران: وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کیا ہیں؟

پیر 9 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معیشت اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کے اعلیٰ سطح کے وفاقی و صوبائی حکام اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر تجارت جام کمال، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں توانائی کی بچت کے حوالے سے جامع لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔

مزید پڑھیں: سرکاری گاڑیوں کے ایندھن سے 50 فیصد کٹوتی، کابینہ ارکان کی تنخواہ بند، وزیراعظم کا کفایت شعاری منصوبے کا اعلان

علاوہ ازیں علاقائی صورتحال کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام کے لیے کفایت شعاری، سادگی اور توانائی کی بچت کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور اس حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

بعد ازاں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری پالیسی سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، اسی وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اگر حالات اسی طرح خراب رہے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، جس سے ایمبولینسز اور عوامی بسیں مستثنیٰ ہوں گی، اور 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کی جائیں گی۔ کابینہ کے ارکان، وزرا، مشیر اور معاونین دو ماہ کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر نہیں لیں گے جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔

گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ سے زائد ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔ تمام محکموں کے دیگر اخراجات میں 20 فیصد کمی اور اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی۔

سرکاری افسران، مشیران، وفاقی و صوبائی وزرا اور گورنرز کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ٹیلی کانفرنس اور آن لائن اجلاس کو ترجیح دی جائے گی، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر پابندی ہوگی، اور سیمینار و کانفرنسز ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر منعقد ہوں گے۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ کے ارکان کی 2 ماہ کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرانے کا فیصلہ

توانائی اور ایندھن کی بچت کے لیے سرکاری و نجی شعبے میں انتہائی ضروری سروسز کے علاوہ 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام کرے گا۔ دفاتر ہفتے میں چار دن کھلیں گے جبکہ ایک اضافی چھٹی ہوگی، تاہم بینک، صنعت اور زراعت پر یہ اطلاق نہیں ہوگا۔

رواں ہفتے کے آخر سے تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا آغاز ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری، رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، خطرناک ملزم گرفتار

اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس، اسلام آباد مذاکرات کے دوران وزارت خارجہ کے افسران کی محنت کو خراج تحسین

ایک عمر، ایک ہی دن اور ایک ہی مقام، لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے کی موت کی حیران کن مماثلتیں

امریکا ایران مذاکرات کا انعقاد پاکستان کی سفارتی کامیابی، معرکۂ حق کے بعد ملک کا وقار بلند ہوا، شرجیل میمن

ایمان مزاری کا سزا معطلی کی درخواست پر صرف نوٹس جاری ہونے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

ویڈیو

میانوالی کی مرغ منڈی: مشہور اصیل سمیت ہر نسل کے مرغوں کی خرید و فروخت کا مرکز

پاکستان امن کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

کالم / تجزیہ

کیا مذاکرات کے شور میں تحریک انصاف ختم ہو چکی ہے؟

ٹرمپ خان کا قالین

اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کے نمایاں پہلو