خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع جنوبی وزیرستان اور لکی مروت میں دہشتگردی کے 2 الگ واقعات میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 4 افراد شہید جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دونوں اضلاع میں ہونے والے دھماکوں کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت، ملزم کا تعلیمی ریکارڈ سامنے آنے پر کراچی کا مدرسہ سیل
پولیس کے مطابق جنوبی وزیرستان اور لکی مروت میں 2 الگ دھماکے ہوئے جس کے بعد دونوں اضلاع میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان محمد طاہر شاہ نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں افطاری سے کچھ دیر قبل ایک بم دھماکہ ہوا جس میں 3 افراد شہید ہو گئے، جن میں 2 پولیس اہلکار جبکہ ایک شہری شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکہ نصب بم کے پھٹنے سے ہوا جو ایک پولیس موبائل وین کے قریب ہوا اور اس کا نشانہ پولیس اہلکار تھے۔
ڈی پی او کے مطابق دھماکے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق 6 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چمن: طور پل میں گیس سلنڈر دھماکا، بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق، 25 زخمی
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت لوگ افطاری کے لیے خریداری میں مصروف تھے جبکہ پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔
دوسرا واقعہ لکی مروت میں پیش آیا جہاں ایک مقامی امن کمیٹی کے رکن کے بھائی کی دکان میں دھماکہ ہوا۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں ایک شخص شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں مجموعی طور پر دونوں واقعات میں شہدا کی تعداد 4 جبکہ زخمیوں کی تعداد 20 سے زائد بتائی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لکی مروت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ نصب بم کے ذریعے کیا گیا یا کواڈ کاپٹر استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: نارتھ ناظم آباد میں مبینہ سلنڈر دھماکا، متعدد افراد زخمی، ایک جاں بحق
دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وانا میں آئی ای ڈی دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے واقعے میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔














